میرپور(کشمیر ڈیجیٹل) پانچ جولائی کو ڈڈیال میں ہونے والے احتجاج کے دوران پیش آنیوالے واقعہ نے عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاجی بیانیے پر نئے سوالات کھڑے کر دیئے۔
سرکاری مؤقف کے مطابق موقع پر موجود ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار ابتدائی طور پر مظاہرین کو پُرامن طریقے سے منتشر ہونے کی ہدایات دے رہے تھے۔
مظاہرین کو منتشر کرنے کے دوران کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے اچانک فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا جس کے بعد آئی بی انسپکٹر کو گولیاں لگی اور وہ زخمی ہوگئے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:انتخابی مہم شروع،مہاجرین کو مائنس نہیں کیاجاسکتایہ پاکستان کا مقدمہ ہے،سعد رفیق
حکام کے مطابق پولیس نے ابتدا میں صرف ہوائی فائر کئے تاہم مسلسل فائرنگ کے بعد اہلکاروںکو مجبوراً اپنی جانوں کے تحفظ کیلئے جوابی کارروائی کرنا پڑی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق بعد ازاں معلوم ہوا کہ واقعے میں زخمی ہونیوالا ایک شخص پلندری کا رہائشی تھا اوروہ اپنے چند ساتھیوں کیساتھ احتجاج میں راوالا کوٹ سے شرکت کیلئے آیا تھا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کور کمانڈر کانفرنس کے فیصلے قومی خواہشات کی ترجمانی ہیں: شوکت جاوید میر
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد یہ تاثر دیا گیا کہ پولیس نے بلااشتعال اندھا دھند فائرنگ کی تاہم ان کے مطابق ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جس میں پولیس کو مورد الزام ٹھہرایا جاسکے ۔
دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس حکام نے کارروائی سے پہلے سے ہونے والی فائرنگ کے جواب میں کی گئی۔
واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے دستیاب شواہد کی روشنی میں قانونی کارروائی آگے بڑھا رہے ہیں۔




