راولپنڈی (کشمیر ڈیجیٹل)مسلم لیگ ن آزادکشمیر نے راولپنڈی سے انتخابی مہم کا آغاز کردیا۔
مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما وسابق وفاقی وزیرخواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ آزادکشمیر میں دہائیوں کی بیڈ گورننس نے لوگوں میں بے چینی پیدا کی۔
خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ کشمیر کا فیصلہ تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے، حکومتوں کی اکھاڑ پچھاڑ اور عرصہ حکومت مکمل نہ کرنے دینا نہ مناسبت اور غیر جمہوری رویہ ہے،یہ نہیں ہونا چاہیے۔،
خواجہ سعد رفیق نے مزید کہا کہ زیادہ بہتر ہوتا اگر جو ہمارے بہن بھائی احتجاج کر رہے ہیں انھیں انتخابات میں حصہ لینا چائیے۔
اگر آپ کے پاس سٹریٹ پاور ہو تو پھر آپ کا کوئی راستہ نہیں روک سکتا،لاک ڈاؤن کرنا،راستہ بند کرنا،ریاستی اداروں کے ساتھ الجھنا ریاست اور سماج کیلئے مناسب نہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:انتخابی مواد کی محفوظ اور بروقت ترسیل ہر صورت یقینی بنائی جائے، چیف الیکشن کمشنر
خواجہ سعد رفیق نے مزید کہا کہ لوگوں کو بھڑکا کر اور بہلا کر مقصد حاصل نہیں کئے جا سکتے،ووٹ کی خاطر ریاستی مفادات پر سوالات اٹھانا قومی قیادت کا کام نہیں ہے۔
خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ اندرون آزاد کشمیر کی نشستیں بڑھائی جاسکتیہیں،مہاجرین مقیم پاکستان کو مائنس نہیں کر سکتے،یہ پاکستان کا مقدمہ ہے۔
جب استصواب رائے ہوگا تو ہم کشمیریوں کی تعداد کو کم نہیں کیا جا سکتا،اس کی اجازت ہم نہیں دینگے ۔کیا یہ بات کشمیر کاز کے مفاد میں ہے،
خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں لوگ ڈوگرہ راج کے خلاف 8 دہائیوں سے لڑ رہے ہیں۔مقبوضہ کشمیر کے لوگ 7 لاکھ بھارت فوج کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
خواجہ سعد رفیق کا مزید کہنا تھا مسئلہ کشمیر پر دو ایٹمی طاقتوں میں کئی جنگیں ہوچکی ہیں،اس کاز کیلئے لاکھوں شہادتیں ہوئی ہیں،کئی غازی ہیں،یہ کوئی مذاق ہے۔کشمیری عوام سے اپیل ہے کہ مطالبات وہ کئے جائیں جو جائز ہوں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور سے دانش سکول حویلی کے وفد کی ملاقات، تعمیراتی امور کا تفصیلی جائزہ
خواجہ سعد رفیق کا مزید کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے ووٹر اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں، کوئی شک نہیں کشمیریوں سے بڑا کوئی پاکستانی نہیں ہے۔
کشمیری پاکستانیوں سے بڑے پاکستانی ہیں،احتجاج کروانے والے ٹیبل پر بیٹھیں، مسائل حل کرینگے
مظاہرین پر تشدد مظاہرے بند کریں۔انتخابی عمل کو متاثر کرنا اور لوگوں کو روکنا یہ کس کا مقدمہ لڑا جارہا ہے،
مہاجرین مقیم پاکستان بڑی تعداد میں ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے نکلیں،اپنا ووٹ پاکستان کے حق میں اپنا ووٹ کشمیر بنے گا پاکستان کے حق میں کاسٹ کریں۔
پاکستان کے چاروں صوبوں نے کشمیریوں سے محبت کی ہے،کمیٹیاں تشکیل دے کر گھر گھر جائیں ووٹ مانگیں،




