ڈڈیال/میرپور:آزاد جموں و کشمیر کے ضلع میرپور کی تحصیل ڈڈیال میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے احتجاج کو منتشر کرنے کے دوران امن و امان کی صورتحال ابتر ہو گئی، جہاں مسلح افراد نے پولیس پر دھاوا بول دیا۔ مسلح عناصر کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ کے نتیجے میں آئی بی کے انسپکٹر عمر شدید زخمی ہو گئے، جنہیں ہنگامی بنیادوں پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، ڈڈیال کے امب چوک پر کالعدم ایکشن کمیٹی کے تقریباً 200 تا 300 مظاہرین جمع ہوئے تھے۔ اطلاع ملنے پر پولیس نفری مظاہرین کو منتشر کرنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے موقع پر پہنچی، تاہم وہاں موجود مسلح افراد نے پولیس پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اس نازک صورتحال پر قابو پانے اور ہجوم کو پیچھے دھکیلنے کے لیے پولیس نے فوری طور پر ہوائی فائرنگ کی، لیکن مظاہرین کی جانب سے پولیس پر دوبارہ فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ڈیوٹی پر مامور آئی بی کے انسپکٹر عمر ٹانگ میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور سے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کی الگ الگ ملاقاتیں
زخمی اہلکار ہسپتال منتقل، سیکیورٹی ہائی الرٹ:
زخمی پولیس اہلکار کو فوری طور پر ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈڈیال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کی جانب سے انہیں فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور اب ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس افسوسناک واقعے کے بعد پورے علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے صورتحال کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں۔
میرپور میں شرپسندی کے خلاف عظیم الشان “امن مارچ”:
دوسری جانب، اس کشیدگی کے برعکس ضلع میرپور میں ایک انتہائی اہم اور مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی جہاں پرو-پاکستان او ایس یو کی جانب سے ایک عظیم الشان “امن مارچ” کا انعقاد کیا گیا۔ اس پرامن مارچ میں تقریباً 800 سے ایک ہزار کے قریب شہریوں نے بھرپور شرکت کی۔ مارچ کے شرکاء نے کالعدم ایکشن کمیٹی کی تمام تر پرتشدد سرگرمیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور خطے میں پائیدار امن، استحکام اور قانون کی بالادستی کے لیے اپنی بھرپور حمایت کا واشگاف اظہار کیا۔




