ہائیکورٹ آزادکشمیر: میڈیکل افسران واہلکاروں کی تقرریاں منسوخ، تنخواہیں واپس لینے کا حکم

میرپور(کشمیر ڈیجیٹل)اسامہ ظفر وغیرہ بنام آزاد حکومت وغیرہ میں ہائی کورٹ نے جملہ تقرریاں منسوخ کر دیں۔ معاملہ احتساب بیورو کو بھیج دیا اور تمام میڈیکل آفیسرز کی تنخواہیں واپس لینے کا حکم بھی جاری کر دیا۔

پٹیشنرز کی طرف سے نامور قانون دان شیخ عادل مسعود ایڈووکیٹ اور خواجہ محمد آفاق ایڈووکیٹ نے مقدمہ کی پیروی کی۔ تفصیلی فیصلے میں ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ یہ تقرریاں قانون کے مغائر کی گئی ہیں جنہیں نہ صرف منسوخ کیا جاتا ہے بلکہ معاملہ مزید کاروائی کیلئے احتساب بیورو کو بھی بھیجا جاتا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ہائیکورٹ: سردار امان کشمیری کے کاغذات نامزدگی چیلنج،فریقین کو نوٹس جاری

میڈیکل آفیسرز کے علاوہ اشتہار میں دیگر تقرریوں کے حوالے سے بھی تفتیش کا کہا گیا اور عدالت نے سخت برہمی کا اظہار بھی کیا۔

یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں محکمہء صحت میں تھوک کے حساب سے تقرریاں کی گئیں۔ اشتہار میں 71 میڈیکل آفیسرز کی آسامیاں مشتہر ہوئیں جبکہ 250 سے زائد تقرریاں کی گئیں جنہیں ڈاکٹر اسامہ ظفر و دیگر نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔۔

مزید یہ بھی پڑھیں:معروف سکالر ناصر مدنی خطبہ جمعہ کے دوران بے ہوش، ہسپتال منتقل

پٹیشنر کی جانب سے مقدمہ کی پیروی شیخ عادل مسعود ایڈووکیٹ اور خواجہ محمد آفاق ایڈووکیٹ نے کی۔ عدالت نے نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے جملہ تقرریوں کو منسوخ کرتے ہوئے معاملہ مزید تحقیق کیلئے احتساب بیورو کے سپرد کر دیا۔

حکم دیا کہ 90 روز کے اندر انکوائری مکمل کر کے رپورٹ جمع کروائی جائے۔ یہ فیصلہ جسٹس عدالت العالیہ جسٹس خالد رشید چوہدری نے سنایا۔ عدالت کے اس فیصلہ سے عوامی حلقوں میں جہاں خوشی کی لہر دوڑی ہے وہیں اس فیصلے کو میرٹ اور انصاف کا بول بالا بھی ہوا ہے۔