اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)وفاقی حکومت نے مقامی آٹو مارکیٹ کو متحرک کرنے اورعوام کو ریلیف فراہم کرنےکیلئے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 1800 سی سی سے کم انجن گنجائش والی استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد (امپورٹ) پر اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی میں واضح کمی کا اعلان کر دیا ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے اس اہم فیصلے کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا ہے، جس کا اطلاق یکم جولائی سے ہو چکا ہے۔
ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی کو 40 فیصد سے گھٹا کر 30 فیصد کر دیا گیا ہے۔
نوٹیفیکیشن میں اس بات کی واضح وضاحت کی گئی ہے کہ یہ ریگولیٹری ڈیوٹی پہلے سے عائد عام کسٹمز اور دیگر ڈیوٹیز کے علاوہ نافذ العمل ہوگی۔
تاہم، کمرشل امپورٹرز کے لیے 10 فیصد کی یہ فوری کمی مارکیٹ میں گاڑیوں کی قیمتوں کو نیچے لانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر الیکشن کمیشن، 24 سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشانات الاٹ
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد ملک میں گاڑیوں کی درآمد کو بتدریج آسان بنانا ہے۔ طے شدہ منصوبے کے تحت، استعمال شدہ گاڑیوں پر عائد اس ریگولیٹری ڈیوٹی میں اب ہر سال 10 فیصد کمی کی جائے گی۔
یہ سلسلہ وار کٹوتی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ مالیاتی سال 2029-30 تک یہ اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتی۔
اس طویل المیعاد پالیسی سے آٹو سیکٹر سے وابستہ تاجروں کو مستقبل کی منصوبہ بندی میں آسانی ہوگی۔
واضح رہے کہ حکومت نے امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 میں ضروری اور مطلوبہ قانونی ترامیم متعارف کروا کر استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ کی اجازت دی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستانی ہیکرز کا بھارتی میڈیا گروپ سن ٹی وی نیٹ ورک پر سائبر حملہ ، نشریات بند
تاہم اس رعایت کو لا محدود نہیں رکھا گیا بلکہ نوٹیفیکیشن میں سخت تاکید کی گئی ہے کہ گاڑیوں کی درآمد کو بین الاقوامی ماحولیاتی تحفظ اور گاڑیوں کے حفاظتی معیارات کی سخت ترین تعمیل سے مشروط کیا جائے گا تاکہ ملک میں صرف محفوظ اور ماحول دوست گاڑیاں ہی درآمد کی جا سکیں۔




