حکومتِ پاکستان کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی اور عوامی ریلیف کے حوالے سے اہم ترین وضاحت سامنے آئی ہے۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے قوم کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پیٹرول سستا کرنے کا حکومتی وعدہ برقرار ہے اور جیسے ہی بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کے نرخ گریں گے، اس کا پورا فائدہ براہِ راست ملک کے غریب عوام تک منتقل کر دیا جائے گا۔
ملکی ضرورت کا 70 فیصد پیٹرول درآمدی ہے: وفاقی وزیر
وفاقی وزیر پیٹرولیم نے ملکی پیداوار اور درآمدات کے نظام پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کو اپنی پیٹرولیم ضروریات کا تقریباً 70 فیصد حصہ مجبوری طور پر باہر سے درآمد کرنا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس، مقامی سطح پر دستیاب خام تیل کی مدد سے صرف 25 سے 30 فیصد پیٹرول ہی تیار کیا جا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے بین الاقوامی مارکیٹ میں ہونے والی معمولی سی تبدیلی یا اتار چڑھاؤ بھی براہِ راست ہمارے ملکی نرخوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قیمتوں کے تعین میں خام تیل کی عالمی قیمت، امپورٹ لاگت، امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر اور ملکی معاشی صورتحال بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ
ماضی میں دی گئی تاریخی ریلیف کا تذکرہ:
علی پرویز ملک نے ماضی کے اعداد و شمار کا موازنہ کرتے ہوئے یاد دلایا کہ اپریل کے مہینے میں شدید علاقائی کشیدگی کے باعث ڈیزل 520 روپے اور پیٹرول 460 روپے فی لیٹر کی تاریخی بلند ترین سطح تک جا پہنچا تھا۔ تاہم، بعد میں جب ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی ہوئی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا۔ اس کا فائدہ حکومت نے فوری طور پر عوام تک پہنچایا اور ڈیزل کے نرخوں میں تقریباً 200 روپے جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 150 سے 155 روپے تک کی نمایاں کمی کر کے عوام کو بڑا معاشی ریلیف فراہم کیا۔
عالمی مارکیٹ کی موجودہ صورتحال اور قیمتیں:
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حالیہ غیر یقینی حالات کے دوران حکومت نے مختلف سستے ذرائع تلاش کر کے نسبتاً کم قیمت پر تیل کی خریداری کو ممکن بنایا، جس سے قومی خزانے کو خطیر مالی فائدہ پہنچا۔ اس وقت صوبائی حکومتوں کے بھرپور تعاون سے پیٹرولیم سپلائی کا پورا نظام مؤثر طریقے سے کام کر رہا ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ عالمی قیمتیں اب بھی جنگ سے پہلے کے دور کے مقابلے میں تقریباً 20 ڈالر فی بیرل زیادہ ہیں، جس کی وجہ سے ملکی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔ انہوں نے رواں ہفتے کے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی پلیٹس قیمت 91.68 سے 98.35 ڈالر فی بیرل جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 104.79 سے 109.09 ڈالر فی بیرل کے درمیان ریکارڈ کی گئی ہے۔ حکومت اس صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور گنجائش نکلتے ہی بلا تاخیر مزید کمی کرے گی۔
ایران سے سستا تیل، گیس خریدنے اور پائپ لائن منصوبے پر غور:
میڈیا سے گفتگو کے دوران علی پرویز ملک نے ایک اور بڑی خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایل این جی (LNG) کے نئے کنکشنز بہت جلد کھول دیے جائیں گے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حکومت اس وقت پڑوسی ملک ایران سے سستا تیل اور گیس خریدنے کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں ہم اپنے ایرانی بھائیوں کے ساتھ مل بیٹھ کر بات چیت کریں گے اور اگر قیمت کم اور موزوں ہوئی تو ایران سے ایل این جی خریدی جا سکتی ہے۔ پاک-ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ یہ معاملہ اس وقت عدالت میں زیرِ سماعت ہے، حکومت اس کیس کی بھرپور پیروی کر رہی ہے اور ایرانی حکام کے ساتھ مل کر اس معاملے کو دوستانہ طریقے سے حل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
مزید پڑھیں: حکومت نے کمرشل طیاروں کے جیٹ فیول کی قیمت میں بڑی کمی کر دی
بیرونی دباؤ کا تاثر مکمل مسترد:
وفاقی وزیر نے ان افواہوں اور تاثر کو قطعی طور پر مسترد کر دیا جس میں کہا جا رہا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے فیصلے کسی بیرونی طاقت یا دباؤ کے تحت کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے جرات مندانہ مؤقف اپناتے ہوئے واضح کیا کہ وزیراعظم پاکستان نے تمام فیصلے صرف اور صرف ملکی مفاد، قومی معیشت اور عوامی فلاح کو سامنے رکھ کر کیے ہیں اور حکومت کسی بھی قسم کے بیرونی دباؤ کو اپنے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں دیتی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی اولین ہدایت یہی ہے کہ ہر ممکن حد تک غریب پرور فیصلے کیے جائیں تاکہ معاشی بوجھ کم سے کم ہو۔




