خواجہ آصف

ن لیگ اور پی پی کا اتحاد مجبوری کا سودا ہے : وزیر دفاع خواجہ آصف کا سنسنی خیز اعتراف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے موجودہ سیاسی اتحاد کو ’’مجبوری کا رشتہ ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے پاس زیادہ آپشنز موجود نہیں تھے، اس لیے محدود دائرہ کار میں رہ کر یہ فیصلہ کرنا پڑا ۔

ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کھلے عام اعتراف کیا کہ یہ اتحاد محض اقتدار میں رہنے کی مشترکہ خواہش کا نتیجہ ہے ۔

خواجہ آصف نے تقسیمِ ہند کے وقت ہجرت کرنے والوں کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ جنہوں نے اپنا سب کچھ چھوڑا اور پنجاب میں آباد ہوئے، ان کا رتبہ اور قربانی مجھ سے کہیں زیادہ ہے، اس لیے قربانیوں کو کیٹگرائز کرنا درست نہیں ۔

آزاد کشمیر کے سیاسی امور پر بات کرتے ہوئے انہوں نے مہاجر نشستوں کے معاملے پر زوردیا کہ نئی اسمبلی کے قیام کے بعد اس مسئلے کو زیرِ بحث لا کر تصحیح کر لینی چاہیے، کیونکہ جمہوری طریقہ یہی ہے۔

انہوں نے ان ڈائریکٹ الیکشن کے طریقہ کار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے انتخابات میں ہمیشہ دباؤ اور پیسے (نوٹ) کا بے دریغ استعمال ہوتا ہے ۔
انہوں نے ’’ون مین ون ووٹ‘‘ کی روایت کو بہتر بنا کر عوام کے خدشات دور کرنے کی وکالت کی ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:فیفا ورلڈ کپ کا بڑا اپ سیٹ،جرمنی کو شکست ، ایکواڈور نے ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنا لی
کشمیر کاز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ اس کی آنر شپ لی ہے، اس لیے اس کی توہین نہیں ہونی چاہیے ۔

انہوں نے پیپلز پارٹی کی قیادت کے احترام کا ذکر تو کیا، لیکن ساتھ ہی آزاد کشمیر میں ان کی حکومت پر سخت سوالات اٹھائے ۔

خواجہ آصف نے پوچھا کہ وہاں کی موجودہ ابتر صورتحال پر حکومت کی کیا ذمہ داری ہے؟ ۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے اور وہاں اب بدترین حالات ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو آزاد کشمیر بلانا دراصل پیپلز پارٹی کی اپنی ناکامی کا کھلا اعتراف ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ویمنز ٹی 20 ورلڈکپ،کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر گل فیروزہ کی سرزنش، ڈی میرٹ پوائنٹ مل گیا
انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ پیپلز پارٹی خود آزاد کشمیر کے انتخابات کو ملتوی کرانے کی خواہشمند تھی ۔