عدالت نے ماہ رنگ بلوچ کو ایف سی اہلکار شبیر بلوچ کے قتل کیس میں عمر قید کی سزا سنادی

بلوچستان میں دھرنے اور احتجاجی مارچ کے دوران سیکورٹی فورسز پر حملوں اور فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کے اہلکار کے بہیمانہ قتل کے ہائی پروفائل مقدمے میں انتہائی اہم اور بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (ATC) نے دو سال تک جاری رہنے والی طویل قانونی کارروائی مکمل ہونے اور جرم ثابت ہونے پر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کو عمر قید کی سزا کا حکم جاری کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ فروری 2024 میں ماہ رنگ بلوچ اور ان کے پیروکاروں کی جانب سے گوادر ‘راجی مچی’ کے نام سے ایک مارچ نکالا گیا تھا، جو کوئٹہ سے شروع ہوا تھا۔ اس احتجاجی مارچ کے دوران مختلف مقامات اور راستوں پر شدید افراتفری پھیلانے اور قافلے میں شامل عناصر کی جانب سے سیکیورٹی فورسز پر متعدد حملوں کے الزامات سامنے آئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ماہ رنگ بلوچ اور ایمان مزاری کے ’’لاپتہ افراد‘‘ میں شامل ایک اور شخص بی ایل اے کمانڈر نکلا

گوادر میں ایف سی اہلکار پر تشدد اور بہیمانہ قتل کا واقعہ:

تفصیلات کے مطابق جب یہ مارچ گوادر کے پرامن علاقے میں پہنچا تو وہاں مبینہ طور پر تشدد کا ایک ہولناک واقعہ پیش آیا۔ ڈیوٹی پر مامور ایف سی کے جوان شبیر بلوچ کو مشتعل افراد کی جانب سے چاروں طرف سے گھیرا گیا اور ان پر شدید پتھراؤ کیا گیا، جس کے نتیجے میں وہ جان کی بازی ہار گئے۔ رپورٹ کے مطابق اس بہیمانہ قتل کے بعد اہلکار کے جسدِ خاکی کی بے حرمتی بھی کی گئی تھی۔

دو سالہ قانونی معرکہ اور انسدادِ دہشت گردی عدالت کا فیصلہ:

اس سنگین واقعے کے بعد تاحال دو سال تک یہ طویل قانونی معرکہ عدالت میں زیرِ سماعت رہا۔ اس دوران یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے مبینہ طور پر ججز کو دھمکیاں دینے اور کیس کی کارروائی میں شدید رکاوٹیں ڈالنے کی بھرپور کوششیں کی گئیں، تاہم کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے مقدمے کی سماعتیں مکمل کیں۔ عدالت نے تمام شواہد اور بیانات کی روشنی میں جرم ثابت ہونے پر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کو عمر قید کی سزا سنائی۔ کیس کی مزید قانونی تفصیلات ابھی تیار کی جا رہی ہیں۔