امریکا اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات میں ہونے والی اہم ترین پیش رفت کے بعد عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد کا بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس نے سرمایہ کاروں کی توجہ ایک بار پھر قیمتی دھاتوں کی طرف مبذول کروا دی ہے۔ امن مذاکرات میں اس پیش رفت کے نتیجے میں مارکیٹ میں افراطِ زر اور شرحِ سود میں ممکنہ اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں، جس کے باعث عالمی سطح پر سونے کی مانگ میں اچانک تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔
عالمی میڈیا کی جانب سے پیر کے روز جاری کردہ رپورٹس کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں 1.2 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کے بعد یہ 4,209.03 ڈالر فی اونس کی سطح پر ٹریڈ کرتا رہا ہے۔ دوسری جانب، اگست کے متبادل مہینے کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 0.5 فیصد کی معمولی کمی کے ساتھ 4,225.80 ڈالر کی سطح پر آگئے ہیں، جس سے مارکیٹ میں سونے کی طلب کا ایک ملا جلا رجحان بھی سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں: تازہ ترین ریٹس جاری
چاندی، پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں:
عالمی مارکیٹ میں صرف سونا ہی نہیں بلکہ دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں کو بھی پر لگ گئے ہیں اور ان کے نرخوں میں بھی واضح تیزی دیکھی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق چاندی کی قیمت 2.6 فیصد کے بڑے اضافے کے ساتھ 66.60 ڈالر فی اونس کی بلند سطح تک پہنچ گئی ہے، جبکہ صنعتی اور قیمتی دھاتوں پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتوں میں بھی بالترتیب 1.3 فیصد اور 1.5 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ افراطِ زر کے خدشات کے پیشِ نظر عالمی سرمایہ کاروں نے سب سے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ایک بار پھر تیزی سے سونے اور دیگر قیمتی دھاتوں کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گر گئیں:
سونے کی قیمتوں میں اس بڑے اچھال کے برعکس، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں واضح کمی دیکھی گئی ہے جبکہ دنیا کے بیشتر اسٹاک مارکیٹ انڈیکسز میں معاشی بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) کی قیمت 2 فیصد سے زائد گر کر 78 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے، جبکہ امریکی خام تیل (WTI) کی قیمت بھی 0.83 فیصد کی کمی کے ساتھ 75 ڈالر فی بیرل پر آگئی ہے جس سے تیل کی عالمی مارکیٹ پر دباؤ صاف ظاہر ہوتا ہے۔




