تیل

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 100روپے فی لیٹر کمی کا امکان

ایران امریکا جنگ بندی اور معاہدے کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں تیزی سے کمی ہورہی ہے، جس کے بعد پاکستان میں بھی عوام کو بڑے ریلیف کی تیاریاں ہورہی ہیں۔

عالمی مارکیٹ کے تناسب سے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 70 سے 100 روپے تک فی لیٹر کمی متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول سستا! حکومت نے ایک اور بڑا ریلیف دیدیا

ذرائع پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق قیمتوں میں کمی کے حوالے سے تاحال ورکنگ نہیں کی گئی تاہم وزیراعظم شہبازشریف قیمتوں میں کمی براہ راست عوام تک پہنچانے کے خواہاں ہیں۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بارے میں مشاورت جاری ہے، حتمی فیصلہ ہوتے ہی ورکنگ اور پھر قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا جائے گا، متوقع کمی کا اعلان وزیر اعظم شہباز شریف کی منظوری سے ہوگا۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حتمی فیصلہ قیمتوں کے تعین کے حساب سے لاگو فارمولا کے تحت کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ایران جنگ شروع ہونے سے قبل عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 73 ڈالر کے لگ بھگ تھی جو جنگ کے دوران بلند ترین سطح 126 ڈالر سے اوپر بھی گئی تھی۔

منگل کو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 7 فیصد سے زائد گری ہے۔ امریکی خام تیل نے 79 ڈالرفی بیرل تک کی سطح پر ٹریڈ کیاجبکہ برطانوی برینٹ خام تیل کی قیمت 81 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آچکی ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے پر اتفاق کی خبریں سامنے آنے کے بعد عوامی حلقوں میں پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کا مطالبہ بھی سامنے آرہا ہے۔

وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے بھی ایک ٹی وی شو میں گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جمعے کے روز جب ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے پر دستخط متوقع ہیں، اسی روز پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی واقع ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے بعد مٹی کا تیل مہنگا ہو گیا

بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کی وجہ سے اس بات کا قوی امکان ہے کہ قیمتوں میں کمی کم از کم 100 روپے یا ڈیڑھ سو روپے تک ہوسکتی ہے۔

اسرائیل اور امریکا کے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات پاکستان میں بھی سامنے آئے جہاں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متعدد بار نمایاں اضافہ اور کمی ریکارڈ کی گئی۔