ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کی تائید کرتے ہیں، شاہ غلام قادر کی وضاحت

اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) آزادکشمیر کے صدر شاہ غلام قادر نے کہا ہے کہ آج پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں میری بات چیت کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں وضاحت کرتا چلوں کہ میں نے کہا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی کے حوالے سے حکومت آزاد کشمیر نے ہم سے مشاورت نہیں کی تھی، لیکن پابندی لگنے کے بعد جب ہمیں حقائق سے آگاہ کیا گیا تو ہم نے اس فیصلے کی تائید کی تھی اور آج بھی اس فیصلے کی بھرپور تائید کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ مسلم لیگ(ن) کا اسلام آباد میں آج اہم اجلاس ہوا ہے جس میں پاکستان پیپلزپارٹی کے الیکشن ملتوی کرنے کے مطالبہ کی مخالفت کی  گئی ہے۔

اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ غلام قادر کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال سب کے سامنے ہے،آزاد کشمیر امن و امان بحال کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر میں انتخابات ملتوی کرنا غیر آئینی ہوگا،طارق فضل کا اعلان

شاہ غلام قادر نے کہا کہ پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ انتخابات کو شیڈول اجلت میں جاری کیا گیا ہے،پی پی قائدین کی پریس کانفرنس پر ہم نے مشاورت کی، آزاد کشمیر کی موجودہ اسمبلی کی معیاد 3 اگست تک ہے،آزاد کشمیر کے آئین کے تحت 4 اگست سے پہلے انتخابات ہونے چاہیے۔

شاہ غلام قادر کا کہنا تھاکہ انتخابات کا شیڈول الیکشن کمیشن نے 5 جون کو جاری کیا،الیکشن کمیشن شیڈول جاری کرنے میں مزید تاخیر نہیں کر سکتا تھا،پیپلزپارٹی چیئرمین بلاول بھٹو کو غلط بریف کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگ الیکشن میں تاخیر کی حمایت نہیں کر سکتی،آزاد کشمیر میں انتخابات کے تاخیر کے حق میں نہیں ہیں،پیپلزپارٹی کو الیکشن کا میدان چھوڑ کر فرارنہیں ہونا چاہیے۔