جہلم ویلی (کشمیر ڈیجیٹل/عمر بھٹی راجپوت)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور جہلم ویلی سے تعلق رکھنے والے نوجوان بیرسٹر عمیر آفتاب کیانی نے کہا ہے کہ برطانیہ میں مقیم بعض کشمیری حلقے آج ایسے سیاسی بیانیوں کی پیروی کرتے دکھائی دے رہے ہیں جو اپنے ہی ریاستی بھائیوں کے حقوق محدود کرنے کی سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں جو ایک سنجیدہ اور قابلِ غور معاملہ ہے ۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جو لوگ برطانیہ میں جمہوریت، مساوات، اقلیتوں اور مختلف طبقات کے حقوق کیلئے آواز بلند کرتے ہیں، پارلیمانی سیاست میں حصہ لیتے ہیں اور مزید سیاسی و سماجی حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں، انہیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ یہی اصول آزاد کشمیر کے اندر اپنے ہی مہاجرین بھائیوں کیلئے کیوں تبدیل کیے جا رہے ہیں ۔
بیرسٹر عمیر آفتاب کیانی نے کہا کہ آزاد کشمیر کے مہاجرین مقیم پاکستان وہ افراد ہیں جو تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان آئے، یہاں آباد ہوئے اور ریاست جموں و کشمیر کے ساتھ اپنا تاریخی، آئینی اور قانونی تعلق رکھتے ہیں ۔ ان کے مطابق مہاجرین کے حقِ رائے دہی کو محدود یا ختم کرنے کی کوشش کسی ایک طبقے کی نمائندگی کمزور کرنے کے مترادف نہیں بلکہ جمہوری اقدار اور آئینی اصولوں پر سوال اٹھانے کے برابر ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر؛ پیپلز پارٹی کاانتخابات مؤخر کرنے کا بڑا مطالبہ
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں کشمیری برادری خود تارکینِ وطن اور مختلف طبقات کے حقوق کی حمایت کرتی ہے، تاہم آزاد کشمیر میں اپنے ہی ریاستی باشندوں کے جمہوری حقوق محدود کرنے کے مطالبات سامنے آنا تشویشناک ہے۔ انکا کہنا تھا کہ انصاف اوراصولوں کا معیار ہر جگہ یکساں ہونا چاہیے ۔
انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، تاہم کسی بھی طبقے کے آئینی حقوق کے خلاف مہم کشمیری اتحاد اور اجتماعی مفاد کو نقصان پہنچا سکتی ہے ۔ مسائل کا حل آئینی، قانونی اور جمہوری طریقہ کار کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ بیرونِ ملک سرگرم تنظیموں اور متعلقہ پلیٹ فارمز پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے بیانیوں یا عناصر کی حوصلہ افزائی نہ کریں جو کشمیریوں کے درمیان فاصلے پیدا کریں اور اجتماعی مفاد پر ذاتی مفادات کو ترجیح دیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں: میرپور: کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی ہڑتال کی کال ناکام، عوام نے ہڑتالی سیاست مسترد کر دی، کاروباری مراکز کھلے
بیرسٹر عمیر آفتاب کیانی نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ کشمیر کی مضبوطی اتحاد، انصاف اور تمام ریاستی باشندوں کے مساوی حقوق کے احترام میں مضمر ہے ۔




