ڈڈیال: لانگ مارچ اور دھرنے میں شریک 1200 افراد کے خلاف پرچے درج، سنگین دفعات شامل

آزاد کشمیر کے علاقے ڈڈیال میں حالیہ لانگ مارچ، پرامن احتجاج اور دھرنے میں شرکت کرنے والے شہریوں کے خلاف انتظامیہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر ایف آئی آرز (FIRs) درج کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔

اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، احتجاج میں شامل تقریباً 1200 مقامی افراد کے خلاف انتہائی سنگین نوعیت کے مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں۔ سینیئر صحافی عبدالمنان سیف اللہ کے مطابق، ان مقدمات میں ریاست کے خلاف بغاوت اور انسدادِ دہشت گردی سمیت تعزیراتِ ہند/پاکستان کی متعدد سخت ترین دفعات شامل کی گئی ہیں۔

ایف آئی آرز میں شامل سنگین دفعات اور جرائم کی نوعیت:

ڈڈیال میں درج کیے جانے والے ان مقدمات میں مظاہرین کو گھیرنے کے لیے قانون کی انتہائی سخت ترین شقوں کا سہارا لیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں فتنہ و فساد برپا کرنے کے حوالے سے دفعہ 147 شامل کی گئی ہے، جبکہ اسلحے اور ہتھیاروں کے زور پر امن و امان خراب کرنے اور فساد پھیلانے کی پاداش میں دفعہ 148 لگائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، جرم میں برابر کی شرکت اور معاونت کے الزامات کے تحت دفعہ 149 کو بھی مقدمے کا حصہ بنایا گیا ہے، جس کا مقصد دھرنے اور مارچ میں موجود تمام لوگوں کو یکساں طور پر نامزد کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈڈیال پولیس کی بڑی کارروائی: احتجاج میں شامل مہران خواجہ اور ناظم کشمیری سمیت 1200 افراد کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج

حکومتی احکامات کی خلاف ورزی اور خوف و ہراس پھیلانے کے الزامات:

انتظامیہ کی جانب سے درج کرائی گئی ان ایف آئی آرز میں سرکاری احکامات کو ہوا میں اڑانے پر دفعہ 188 (حکومتی احکامات کی خلاف ورزی) عائد کی گئی ہے، جبکہ عوام الناس کے اندر دانستہ طور پر خوف و ہراس، سنسنی اور انتشار پیدا کرنے کے الزام میں دفعہ 505 بھی شامل ہے۔ مزید برآں، احتجاج کے دوران سڑکیں بلاک کرنے اور راستے مسدود کرنے پر دفعہ 341 (غیر قانونی راستہ روکنا) کے تحت بھی کارروائی شروع کر دی گئی ہے، جس نے احتجاجی تحریک سے وابستہ افراد کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔

بغاوت اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات: ضمانت کا حصول مشکل ترین:

ان تمام مقدمات میں جو سب سے زیادہ تشویشناک اور اہم ترین پیش رفت ہے، وہ ریاست کے خلاف بغاوت کی دفعہ 124-اے اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کا شامل کیا جانا ہے۔ قانونی ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ایف آئی آرز میں لگی ہوئی بہت سی دفعات ایسی ہیں جن میں ملزمان کو عدالتوں سے آسانی کے ساتھ ضمانت مل سکتی ہے۔ تاہم، بغاوت کی دفعہ 124 اور دفعہ انسداد دہشت گردی جیسی انتہائی سنگین شقوں کی موجودگی کے باعث ان افراد کے لیے اتنی آسانی کے ساتھ عدالتوں سے ضمانتیں حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا اور انہیں سخت قانونی گرفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: لندن: پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر احتجاجی کیمپ پر برطانوی پولیس کا چھاپہ،کیمپ اُکھاڑ دیا