نئے وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2026-27ء میں جہاں ایک طرف نئے منصوبوں پر پابندی لگائی گئی ہے وہاں دوسری طرف ملک کے جاری اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کو وقت پر پورا کرنے کیلئے خطیر رقوم مختص کی گئی ہیں ۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے پیش کیے جانے والے ساڑھے 17 ہزار ارب روپے کے اس کل بجٹ میں مواصلات، توانائی اور سماجی شعبے کو خاص اہمیت دی گئی ہے ۔
ترجیحی منصوبوں کی تفصیلات کے مطابق ملک میں سڑکوں اور شاہراہوں کے جال کو بہتر بنانے کے لیے بھاری فنڈز رکھے گئے ہیں۔ صوبہ بلوچستان کے اہم ترین روٹ این 25 کوئٹہ کے لیے سب سے زیادہ یعنی 100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وفاقی بجٹ 27-2026ء کے دستاویزات پارلیمنٹ ہاؤس پہنچا دی گئیں
اسی طرح، سندھ میں سفری سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے سکھر حیدرآباد موٹر وے کو 30 ارب روپے، سندھ کوسٹل ہائی وے کو 25 ارب روپے اور مہران ہائی وے کے لیے 21 ارب روپے کا بجٹ دیا گیا ہے ۔
ریلوے کے نظام میں انقلابی تبدیلی لانے والے ‘ایم ایل ون (ML-1) منصوبے کے لیے بھی 25 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ملک میں بجلی کی کمی کو پورا کرنے اور پانی کے ذخائر بڑھانے کے لیے ڈیموں کی تعمیر کو ترجیح دی گئی ہے ۔
بجٹ دستاویزات کے تحت مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے 26 ارب روپے اور داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے 21 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ، کراچی کے شہریوں کے لیے پانی کی قلت دور کرنے کے مقصد سے کراچی بلک واٹر سپلائی اسکیم کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وفاقی بجٹ 27-2026: گزشتہ سال کے مقابلے میں عوام کو کون سے ریلیف ملنے کا امکان ہے؟
حکومت نے تعلیم اور صحت کے شعبوں کو بھی بجٹ میں نظرانداز نہیں کیا۔ پسماندہ علاقوں کے بچوں کو معیاری تعلیم دینے کے لیے ‘دانش اسکولز کی تعمیر کی مد میں 22 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جبکہ غریب عوام کو علاج معالجے کی سہولیات دینے کے لیے پرائم منسٹر نیشنل ہیلتھ پروگرام کو 3 ارب روپے دیے جائیں گے ۔



