وفاقی حکومت کی جانب سے 10 جون کو قومی اسمبلی میں مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جس کے بعد مہنگائی کے ستائے شہریوں کی نظریں ریلیف پر مرکوز ہو گئی ہیں۔
وفاقی حکومت نے باضابطہ طور پر مالی سال 27-2026 کے سالانہ بجٹ کی تاریخ کا اعلان کر دیا ہے اور 10 جون کو قومی اسمبلی کے مقتدر ایوان میں پیش کیے جانے والے اس بجٹ سے متعلق ملک بھر میں عوامی توقعات اور گہما گہمی بڑھتی جا رہی ہے۔ ملک میں جاری حالیہ مہنگائی، بجلی و گیس کے بڑھتے ہوئے یوٹیلٹی بلز اور زندگی کی مسلسل بلند ہوتی ہوئی لاگت کے باعث عام شہریوں کی نظریں اب مکمل طور پر اس بات پر مرکوز ہو چکی ہیں کہ آیا حکومت گزشتہ برس کے سخت بجٹ کے مقابلے میں اس بار عوام کو کوئی حقیقی اور بڑا ریلیف فراہم کر پائے گی یا پھر انہیں مزید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تنخواہ دار طبقے سے لے کر کاروباری برادری اور عام صارفین تک، معاشرے کا ہر طبقہ اس وقت یہ جاننے کے لیے بے تاب ہے کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں کن مخصوص شعبوں کو ریلیف دیے جانے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بجٹ 10جون کو پیش ہوگا،ن لیگ اور پیپلزپارٹی میں اتفاق
ملک کو اس وقت کئی معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، شہباز رانا:
اس اہم موضوع پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے نامور معاشی امور کے ماہر شہباز رانا نے واضح کیا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کسی بہت بڑے یا غیر معمولی ریلیف کی توقع رکھنا مناسب نہیں ہے، کیونکہ ملک کو اب بھی کئی سنگین نوعیت کے معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ بجٹ میں بعض مخصوص شعبوں کے لیے انتہائی محدود مگر بہت اہم ریلیف متوقع ہے۔ حکومت گزشتہ ایک سال کے طویل عرصے کے دوران ملکی معیشت کو درپیش بنیادی مسائل کو مکمل طور پر حل کرنے میں ناکام رہی ہے، لیکن اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکسوں میں کچھ نرمی کی جائے یا ان کے لیے دیگر مراعات متعارف کروائی جائیں۔ شہباز رانا کے مطابق کارپوریٹ سیکٹر اور برآمد کنندگان کے لیے بھی ٹیکسوں میں کمی جیسے مختلف اقدامات اس وقت زیر غور آ سکتے ہیں، جن کا اصل مقصد ملک میں کاروباری سرگرمیوں کو تیز کرنا اور اقتصادی نمو کو فروغ دینا ہے، تاہم بڑے پیمانے پر ریلیف دینے کے بجائے اس بار وفاقی بجٹ میں ہدفی اور محدود سہولیات دیے جانے کا امکان سب سے زیادہ ہے۔
حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر سکتی ہے، ڈاکٹر خاقان نجیب:
دوسری جانب ممتاز ماہر معاشیات ڈاکٹر خاقان نجیب کا کہنا تھا کہ آئندہ آنے والا وفاقی بجٹ موجودہ حکومت کے لیے ایک انتہائی اہم اور بہترین موقع ہے۔ حکومت اس بجٹ کے ذریعے عوام کو معاشی ریلیف دینے کی طرف کچھ سنجیدہ اقدامات اٹھا سکتی ہے، خاص طور پر پیٹرول اور ڈیزل پر عائد کی جانے والی لیوی کو مناسب اور متوازن سطح پر رکھ کر عام آدمی کے کندھوں پر پڑنے والا بوجھ نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری مذاکرات میں پاکستان کی جانب سے یہ بات اچھے اور مضبوط طریقے سے سامنے رکھی جائے تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مستحکم رکھتے ہوئے عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر خاقان نجیب نے مزید بتایا کہ حکومت ٹیکس اکٹھا کرنے کے نظام میں کافی اچھی پیش رفت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ پچھلے سال کے معاشی اہداف کے مقابلے میں اس بار کا نیا ٹارگٹ بڑھا کر 15 ہزار 260 ارب روپے کرنے کا فیصلہ بالکل درست سمت میں ایک مثبت قدم ہے۔ ان کا خیال ہے کہ حکومت کی نئی ٹیکس تجاویز جیسے کہ لینڈ ویلیو ٹیکس اور کیپیٹل گینز ٹیکس کے نفاذ کے ساتھ ساتھ ٹیکس کمپلائنس کے نظام کو بہتر کرنے سے ملکی معیشت مزید مضبوط ہو گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی گہرا زور دیا کہ ملک میں طویل مدتی معاشی اصلاحات کا ہونا بہت ضروری ہے، جس کے لیے سیونگز ریٹ کو بڑھانا، انویسٹمنٹ ٹو جی ڈی پی ریشو کو بہتر کرنا اور خاص طور پر مینوفیکچرنگ سیکٹر کو مکمل سپورٹ فراہم کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو انویسٹمنٹ فرینڈلی پالیسیاں بنانی چاہییں تاکہ لوکل اور غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں کسی رکاوٹ کے بغیر آسانی سے کام کر سکیں اور ملکی معیشت کو مضبوط سہارا ملے۔
ڈاکٹر خاقان نجیب کا مؤقف تھا کہ آئی ایم ایف کے نئے پروگرام میں پاکستان کی مکمل ملکیت ہونی چاہیے۔ حکومت اپنی بنیادی ترجیحات میں غربت کے خاتمے، زراعت کی ترقی، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو واضح طور پر اولیت دے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بجٹ میں ملک کی اقتصادی گروتھ بڑھانے والے دور رس اقدامات کیے جائیں تو معیشت تیزی سے آگے بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انرجی کی لاگت، ڈوئنگ بزنس کی لاگت اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل جیسے دیرینہ مسائل حل کرنے سے ملک میں سرمایہ کاری بڑھے گی۔ حکومت اگر یہ تمام چیلنجز کامیابی سے حل کر لے گی تو نہ صرف عام عوام کو بڑا ریلیف ملے گا بلکہ ملکی معیشت بھی مستحکم ہو کر مستقل ترقی کی راہ پر چل پڑے گی۔
آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے حکومت کے مالیاتی اختیارات محدود ہیں، راجا کامران:
معروف معاشی ماہر راجا کامران کے مطابق آئندہ وفاقی بجٹ سے اگرچہ بہت بڑے پیمانے پر عوامی ریلیف کی توقعات وابستہ نہیں کی جا سکتیں، تاہم حکومت کے لیے مالیاتی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے ترقیاتی اور سماجی شعبوں پر خصوصی توجہ دینا ایک اہم ترین ترجیح ہوگی۔ ان کے بقول نئے بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ ملکی دفاع، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سرکاری خدمات کے لیے مالی وسائل کی فراہمی پر مرکوز ہوگا، جو ریاست کی اہم ذمہ داریوں کو مؤثر انداز میں نبھانے کے لیے بے حد ضروری ہے۔ راجا کامران کا مزید کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کی سخت شرائط کی وجہ سے حکومت کے مالیاتی اختیارات کافی حد تک محدود ہو چکے ہیں، تاہم اس کے باوجود بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) جیسے سماجی تحفظ کے بڑے منصوبوں کے لیے فنڈز میں اضافے اور مختلف ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے مناسب وسائل مختص کیے جانے کا قوی امکان موجود ہے۔
مزید پڑھیں: بجٹ2026-27:مزدوروں کی ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
ان کے مطابق اگر حکومت دستیاب محدود وسائل کو مؤثر اور شفاف انداز میں استعمال کرتی ہے تو اس کے مثبت اور دور رس اثرات عام شہریوں تک بھی لازمی پہنچ سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد عوامی سہولیات کی فراہمی اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کی ایک بہت بڑی ذمہ داری صوبوں کو منتقل ہو چکی ہے، جس کے باعث اب صوبائی حکومتوں کے پاس مقامی ضروریات کے مطابق بہتر منصوبہ بندی کرنے اور اپنے وسائل خرچ کرنے کے پہلے سے کہیں زیادہ مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے شعبوں میں واضح بہتری لا کر صوبے عوام کو براہِ راست بڑا ریلیف فراہم کر سکتے ہیں۔ راجا کامران کے مطابق آئندہ مالی سال میں حکومت کی اصل توجہ صرف وقتی یا فوری ریلیف دینے کے بجائے ایسے پائیدار اقدامات پر ہونی چاہیے جو ملکی معیشت کو زیادہ مستحکم بنیادوں پر استوار کریں، سرکاری خدمات کے معیار کو بہتر بنائیں اور قیمتی عوامی وسائل کے مؤثر استعمال کو ہر صورت یقینی بنائیں۔



