دستاویزات

وفاقی بجٹ 27-2026ء کے دستاویزات پارلیمنٹ ہاؤس پہنچا دی گئیں

نیا وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2026-27ء پیش کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور وزارتِ خزانہ نے اس کی دستاویزات پارلیمنٹ ہاؤس پہنچا دی ہیں ۔

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں ساڑھے 17 ہزار ارب روپے کا یہ بھاری بجٹ پیش کریں گے ۔ بجٹ کے موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس اور اس کے آس پاس سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں ۔

اسلام آباد اور پنجاب پولیس کے ساتھ ساتھ رینجرز کے دستے بھی الرٹ ہیں ۔ سکیورٹی کی اس سختی کی بڑی وجہ اپوزیشن کا احتجاج ہے ، جس نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھرپور مظاہرے کا اعلان کر رکھا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وفاقی بجٹ آج پیش کیا جائیگا، تنخواہوں، پنشن میں اضافہ سمیت اہم نکات سامنے آگئے

کسی بھی بدمزگی سے بچنے کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے سیکیورٹی اسٹاف (سارجنٹ ایٹ آرمز) کو پوری طرح تیار رہنے کا حکم دیا ہے ۔

اس نئے بجٹ میں حکومت نے ٹیکسوں کی مدد سے 15 ہزار 267 ارب روپے اکٹھے کرنے کا بڑا ہدف مقرر کیا ہے ۔

دوسری طرف، ملک پر چڑھے قرضوں کا سود اتارنے کے لیے سب سے زیادہ یعنی 7 ہزار 824 ارب روپے کی خطیر رقم رکھی گئی ہے جبکہ ملک کے دفاع اور سکیورٹی کیلئے 3 ہزار ارب روپے مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ حکومت کا ارادہ یہ بھی ہے کہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے 1 ہزار 727 ارب روپے وصول کیے جائیں ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وفاقی بجٹ 27-2026: گزشتہ سال کے مقابلے میں عوام کو کون سے ریلیف ملنے کا امکان ہے؟

عوام اور سرکاری ملازمین کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ ان کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کا قوی امکان ہے ۔ تاہم  معاشی مشکلات کے باعث حکومت اس سال کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کرے گی بلکہ صرف پرانے اور جاری منصوبوں کو ہی پورا کیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ، سابق فاٹا کے علاقوں کو اب تک ملنے والی ٹیکس چھوٹ بھی ختم کیے جانے کا امکان ہے ۔