پاکستان میں گرمی کی شدت اب صرف موسم کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ ایک بڑا بحران بنتی جا رہی ہے جو معیشت، زراعت، پانی اور عام لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہی ہے ۔
اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق پاکستان میں 2024 سب سے گرم سال تھا جبکہ 2025 دوسرا سب سے گرم سال رہا ۔ گزشتہ سال ملک کا اوسط درجہ حرارت 23.9 ڈگری سینٹی گریڈ رہا جو عام اوسط سے زیادہ ہے ۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں موسم تیزی سے گرم ہو رہا ہے ۔
شمالی علاقوں جیسے گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ۔ اس سے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں جس کی وجہ سے مستقبل میں اچانک سیلاب اور خطرناک جھیلوں کے پھٹنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔
2025 کے دوران شمالی علاقوں میں درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا، گلگت بلتستان میں 1.24 ڈگری، خیبر پختونخوا میں 1.29 ڈگری اور آزاد کشمیر میں 1.56 ڈگری اضافے نے گزشتہ 65 برسوں کے ریکارڈ توڑ دئیے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:محکمہ موسمیات کی مون سون 2026ء کی پیشگوئی: شدید بارشیں، گرمی اور اربن فلڈنگ کا الرٹ
2025 میں بارشیں مجموعی طور پر معمول سے تھوڑی کم رہیں، لیکن بارش کا انداز بدل گیا ہے۔ کچھ علاقوں میں زیادہ بارش ہوئی جبکہ کچھ علاقوں میں کم ہے ۔ اب بارش کم دنوں میں زیادہ شدت سے ہوتی ہے جس سے شہری سیلاب اور نقصان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مون سون کا نظام تبدیل ہو رہا ہے اور سیلاب کے خطرات نئے علاقوں تک پھیل رہے ہیں۔ 2025 کے سیلابوں نے ملک کے تمام صوبوں کو متاثر کیا جو 2022 کے بڑے سیلابوں کی یاد دلاتے ہیں ۔
شدید گرمی کی وجہ سے بجلی کی طلب بڑھ جاتی ہے، پانی کی کمی ہوتی ہے اور فصلوں کی پیداوار متاثر ہوتی ہے ۔ گرمی کی لہر خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کے لیے خطرناک ہوتی ہے ۔
ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ ال نینو کے دوبارہ آنے کا امکان ہے جو موسم کو مزید غیر متوازن کر سکتا ہے اور گرمی اور شدید بارشوں میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ملک بھر میں شدید گرمی، ہیٹ ویو کا الرٹ، قومی ادارہ صحت کی اہم ایڈوائزری جاری
سائنسدانوں کے مطابق نومبر سے جنوری کے دوران 63 فیصد امکان موجود ہے کہ یہ ایک طاقتور ال نینو میں تبدیل ہو جائے گا ۔ اگر ایسا ہوا تو پاکستان سمیت دنیا کے کئی خطوں میں مزید شدید گرمی، غیر معمولی بارشیں اور موسمی بے ترتیبی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔




