آزاد کشمیر پر جھوٹ کا بازار گرم ،بھارت سے تیار کردہ واٹس ایپ میسجز کاسلسلہ تیز

آزاد کشمیر میں کالعدم عوامی ایکشن کی کال پر انتشار کے بعد آزادکشمیر کی صورتحال پر بھارت نے جھوٹ کا بازار گرم کردیا گیا ہے ۔

ذرائع کے مطابق آزادکشمیر کے شرپسندوں نے بھارت سے تیار کئے گئے واٹس ایپ میسج پھیلانے کا سلسلہ شروع کردیا۔

بھارتی واٹس ایپ میسجز میں کچھ اس طرح کا تجزیہ دیا گیا ہے ۔ جس میں جھوٹ اور فورسز کیخلاف پروپیگنڈا مہم شروع ہوگئی جس کے بعد بھارت نے مختلف واٹس ایپ میسجز تیار کرکے پھیلادیا ۔

اس پروپیگنڈے میں جاں بحق ہونے والے اور زخمیوں کی تعداد کو دکھایا گیاہے جو کہ انتہائی انتشار کو فروغ دینے کا سبب بننے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:عمان: امریکی فوج کا ہیلی کاپٹر سمندر میں کر تباہ، پائلٹ محفوظ رہے

اموات اور زخمیوں کے حوالے سے روزانہ کی موجودہ صورتحال کا تجزیہ اس طرح پیش کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر کی صورتحال سے متعلق سوشل میڈیا پر گمراہ کن اور غیر مصدقہ پیغامات پھیلانے کا سلسلہ تیز ہو گیا۔ بھارت سے تیار کردہ جھوٹے اور من گھڑت واٹس ایپ میسج پھیلنا شروع ہوگئے ہیں ۔

آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال سے متعلق بھارت سے تیار کردہ ایک جھوٹا اور من گھڑت واٹس ایپ پیغام سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہا ہے

جس میں مختلف اضلاع میں جانی و مالی نقصانات کے جھوٹے اور من گھڑت اعداد و شمار درج کیے گئے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:فیصل گیلانی کا کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے لاتعلقی کا اعلان

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اس جھوٹے اور من گھڑت پیغام میں زخمیوں اور متاثرین میں عام شہریوں کے علاوہ پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

پیغامات میں ایسے بیانیے کو فروغ دیا جا رہا ہے جو زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے اور سراسر جھوٹ اور پروپیگنڈا ہے ،سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی خبروں سے بھارت فائدہ اٹھا رہا ہے ۔

آزاد کشمیر میں صورتحال معمول کے مطابق ہے اور وہاں کے باشعور عوام نے کالعدم ایکشن کمیٹی کی ہڑتال کو مسترد کردیا جس پر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے ہینڈلر شدید ناراض ہیں اور وہ اب من گھڑت اور جھوٹے پیغامات پھیلا کر عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں

غلط معلومات اور پروپیگنڈا مختلف ذرائع سے تیزی کے ساتھ پھیلایا جاتا ہے، اس لیے عوام کو چاہیے کہ کسی بھی خبر یا پیغام پر یقین کرنے سے پہلے مستند ذرائع سے اس کی تصدیق ضرور کریں۔

عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر مصدقہ پیغامات اور افواہوں سے گریز کریں اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف مستند معلومات پر انحصار کریں۔