گلگت بلتستان میں عام انتخابات کے لیے تمام تر انتظامی اور سکیورٹی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، جبکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ضلع دیامر میں فوری طور پر دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ صوبائی الیکشن کمیشن اور انتظامیہ نے انتخابی عمل کو شفاف اور پرامن بنانے کے لیے تمام حلقوں میں پولنگ سٹیشنز اور عملے کی تعیناتی کا کام فائنل کر لیا ہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق گلگت بلتستان کے انتخابات کے لیے قائم تمام 24 حلقوں میں مجموعی طور پر 396 امیدوار انتخابی میدان میں موجود ہیں، جن میں 266 آزاد امیدوار شامل ہیں جبکہ 7 خواتین امیدوار بھی ان انتخابات میں بھرپور حصہ لے رہی ہیں۔ صوبہ بھر میں رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد 9 لاکھ 58 ہزار 780 ہے، جس میں مرد ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 3 ہزار 772 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 4 لاکھ 54 ہزار 708 ریکارڈ کی گئی ہے۔
انتخابات کو پرامن بنانے کے لیے صوبہ بھر میں مجموعی طور پر 1368 پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ان میں سے 480 پولنگ سٹیشنز کو انتہائی حساس، 350 کو حساس جبکہ 457 پولنگ سٹیشنز کو نارمل قرار دیا گیا ہے۔ صوبائی انتظامیہ نے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کرتے ہوئے الیکشن پراسیس کے دوران فرائض کی انجام دہی کے لیے 15 ہزار پولیس اہلکاروں کو سکیورٹی پر مامور کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان میں الیکشن مہم ختم ،ووٹنگ کل،سخت سکیورٹی انتظامات
گلگت بلتستان انتخابات 2026ء کے پرامن اور کامیاب انعقاد کے لیے 24 حلقوں میں ہزاروں کی تعداد میں انتخابی عملے کو ڈیوٹیاں سونپ دی گئی ہیں۔ الیکشن ڈیوٹی پر مامور ساڑھے 7 ہزار افسران اور ملازمین کے لیے مجموعی طور پر 27 کروڑ 60 لاکھ روپے کا اعزازیہ مقرر کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق 24 حلقوں کے 24 ریٹرننگ افسران کے لیے 18 لاکھ روپے، جبکہ اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران کے لیے 12 لاکھ روپے اعزازیہ مقرر کیا گیا ہے۔
اسی طرح 1368 پریزائڈنگ افسران کے لیے 1 کروڑ 64 لاکھ 16 ہزار روپے، 2450 اسسٹنٹ پریزائڈنگ افسران کے لیے 2 کروڑ 45 لاکھ روپے، اور 2450 پولنگ افسران کے لیے 2 کروڑ 40 لاکھ روپے اعزازیہ مختص ہوا ہے۔ اس کے علاوہ الیکشن ڈیوٹی دینے والے ایل ڈی سی، یو ڈی سی اور نائب قاصد سمیت 1360 دیگر سرکاری ملازمین کے لیے 20 کروڑ 80 لاکھ روپے کا اعزازیہ مقرر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب، انتخابی گہما گہمی کے دوران امن و امان کے تحفظ کے لیے ضلع دیامر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر دیامر نے باقاعدہ طور پر 60 روزہ پابندیوں کا حکم نامہ جاری کر دیا ہے، جس کے تحت ضلع بھر میں اسلحہ کی نمائش اور ہوائی فائرنگ پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔ حکم نامے کے مطابق پٹاخوں کے استعمال پر بھی 60 روز کے لیے پابندی ہوگی، جبکہ تمام اقسام کے ڈرونز اور یو اے ویز کی غیر مجاز پروازوں کو ممنوع قرار دیتے ہوئے ڈرون اڑانے کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا این او سی (NOC) لازمی قرار دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: گلگت بلتستان انتخابات پر بھارتی اعتراضات بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار
حساس تنصیبات کے تحفظ کے لیے سخت انتظامی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور دفعہ 144 کے یہ احکامات فوری طور پر نافذ العمل ہو چکے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے، جبکہ عام شہریوں سے احکامات پر سختی سے عملدرآمد کی اپیل کی گئی ہے اور خبردار کیا گیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔




