بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام محض ایک فرد پر نہیں بلکہ براہ راست ریاست پر حملہ ہے۔ انہوں نے حکومت کے سخت ترین موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو ہر قیمت پر ان کے انجام تک پہنچایا جائے گا اور قانون کے محافظوں کا خون کسی صورت رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زور دے کر کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے واضح اور سخت الفاظ میں تنبیہ کی کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے تمام عناصر کو پوری قوت سے کچل دیا جائے گا تاکہ صوبے میں امن و امان کے قیام کو ہر حال میں ممکن بنایا جا سکے۔
دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا اعلان:
سرفراز بگٹی کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں اب دہشت گردوں کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں رہے گی۔ انہوں نے سیکیورٹی اداروں کو احکامات دیتے ہوئے کہا کہ امن دشمن عناصر کے خلاف تمام کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی تاکہ ریاست مخالف عناصر کو سنبھلنے کا موقع نہ مل سکے اور عوامی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: مستونگ میں گاڑی پر فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور سیکیورٹی گارڈ شہید
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ حکومت اور سیکیورٹی ادارے مل کر صوبے سے دہشت گردی کے ہر نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے، اور اس بزدلانہ کارروائی میں ملوث عناصر اور ان کے مددگاروں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر سخت سزا دی جائے گی۔
شہداء کے خون کا حساب اور جنگ کا عزم:
وزیراعلیٰ بلوچستان نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کے خون کا حساب ضرور لیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کی بزدلانہ کارروائیاں ریاست کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں اور نہ ہی حکومت کو اپنے موقف سے پیچھے ہٹا سکتی ہیں۔
اپنے بیان کے اختتام پر میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ پوری قوت، یکسوئی اور تمام دستیاب وسائل کے ساتھ مسلسل جاری رہے گی جب تک کہ صوبے سے امن دشمنوں کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔




