آزاد جموں و کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے 9 جون کو دی جانے والی احتجاجی کال کے پیش نظر حکومت نے امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے اہم اور سخت فیصلے کیے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے ریاست بھر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کو معطل کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔
حکومتی احکامات کے مطابق آزاد کشمیر بھر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس کی معطلی کا عمل آج سے ہی شروع کر دیا گیا ہے۔ سرکاری دستاویزات اور احکامات کے تحت یہ معطلی عارضی نہیں بلکہ طویل ہوگی، اور ریاست میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس 12 جون تک مسلسل بند رہے گی۔ اس اقدام کا مقصد احتجاج کے دوران کسی بھی قسم کے افواہوں کے پھیلاؤ کو روکنا اور سیکیورٹی صورتحال کو قابو میں رکھنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر : رات ساڑھے 11بجے سے انٹرنیٹ ،موبائل سروس بند کرنے کا حکم
سیاحوں کے لیے اہم ایڈوائزری اور سفری پابندیاں:
ریاست میں امن و امان کی ممکنہ کشیدگی کے پیش نظر حکومت آزاد کشمیر نے سیاحت و دیگر مقاصد کے لیے آنے والے تمام افراد کے لیے ایک باقاعدہ اور اہم ایڈوائزری بھی جاری کر دی ہے۔ اس ٹریول ایڈوائزری میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ تمام ملکی و غیر ملکی سیاح اور دیگر مسافر 20 جون تک آزاد کشمیر کے ہر قسم کے سفر سے مکمل گریز کریں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ شہریوں اور سیاحوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
اسلام آباد پولیس کی تعیناتی اور حکومت کا دوٹوک موقف:
احتجاجی کال کے باعث پیدا ہونے والی ممکنہ تصادم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے وفاق سے بھی سیکیورٹی مدد طلب کر لی گئی ہے۔ اس سلسلے میں اسلام آباد پولیس کے 1500 سے زائد افسران و اہلکاروں پر مشتمل بھاری فورس کو آزاد کشمیر بھیجنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے جو وہاں مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر فرائض سرانجام دے گی۔
مزید پڑھیں: ایکشن کمیٹی کے کور ممبر انجم زمان اور بابر ترک گرفتار، اسلحہ برآمد
ترجمان وزیر اعظم آزاد کشمیر شوکت جاوید میر نے اس نازک صورتحال پر دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی قطعی اجازت نہیں دے سکتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے کل 38 مطالبات میں سے 35 مطالبات پہلے ہی تسلیم کیے جا چکے ہیں، اور اتنے بڑے پیمانے پر مطالبات مانے جانے کے بعد بھی احتجاج پر اصرار کرنا عوامی مفاد نہیں بلکہ صرف اور صرف سیاسی ضد ہے۔




