مظفرآباد: بچے کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ اور روشن مستقبل کی ضمانت ہوتے ہیں، جن کی بہتر صحت اور معیاری سہولیات کی فراہمی ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اسی مقصد کے تحت فوڈ اتھارٹی مظفرآباد نے تعلیمی اداروں میں طلبہ و طالبات کو صاف اور محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے ایک خصوصی اور جامع معائنہ مہم کا آغاز کیا ہے۔
فوڈ اتھارٹی مظفرآباد کی خصوصی ٹیم نے شہر کے مختلف سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس مہم کے دوران واٹر فلٹریشن پلانٹس، واٹر کولرز، پانی ذخیرہ کرنے کے انتظامات، صفائی و ستھرائی کی صورتحال اور واٹر کنٹینرز کی حالت کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ معائنے کے دوران یہ چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے کہ متعدد تعلیمی اداروں میں واٹر فلٹریشن پلانٹس طویل عرصے سے غیر فعال پڑے تھے، جبکہ بعض اداروں میں طلبہ کے لیے فلٹریشن کا کوئی سسٹم سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: فوڈ اتھارٹی کا برارکوٹ انٹری پوائنٹ پر چھاپہ، شہداور اپیل سائڈ رونیگر کی بھاری کھیپ ضبط
غفلت برتنے والے اداروں کو ایک ہفتے کا الٹی میٹم:
معائنے کے دوران بچوں کی صحت سے کھلواڑ کرنے اور مطلوبہ انتظامات کی عدم موجودگی پر فوڈ اتھارٹی نے متعلقہ تعلیمی اداروں کے ذمہ داران کو باقاعدہ قانونی نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔ حکام نے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے ایک ہفتے کے اندر فلٹریشن سسٹمز کو ہر صورت فعال بنانے اور فلٹرز کی تبدیلی کو یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔ فوڈ اتھارٹی حکام نے واشگاف الفاظ میں واضح کیا کہ تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم معصوم بچوں کو محفوظ اور معیاری پینے کے پانی کی فراہمی خالصتاً ادارہ جاتی ذمہ داری ہے اور پیور فوڈ ریگولیشنز کے تحت اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
مقررہ مدت کے بعد دوبارہ معائنہ اور سخت کارروائی کا انتباہ:
ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر مظفرآباد ابرار احمد میر نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقررہ مدت (ایک ہفتہ) ختم ہونے کے بعد تمام اداروں کا دوبارہ اچانک معائنہ کیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بچوں کو صاف، محفوظ اور معیاری پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنانے اور پانی سے پھیلنے والی موذی بیماریوں کی روک تھام کیلئے فوڈ اتھارٹی اپنی نگرانی اور سخت اصلاحی اقدامات کا سلسلہ بلاتعطل جاری رکھے گی۔



