لائن آف کنٹرول پر غریب شہری کی 22 بکریاں غلطی سے سرحد پار گئیں، انڈین آرمی نے قبضے میں لے لیں

حویلی کہوٹہ، آزاد جموں و کشمیر کے سرحدی گاؤں کیرنی سے ایک افسوسناک اور تشویشناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں لائن آف کنٹرول کے قریب چرتے ہوئے ایک غریب اور سفید پوش مقامی شہری کی 22 بکریاں غلطی سے سرحد پار مقبوضہ کشمیر کی حدود میں چلی گئیں۔ مقبوضہ وادی میں تعینات انڈین آرمی کی پٹرولنگ ٹیم نے ان بکریوں کو فوری طور پر اپنے قبضے میں لے لیا ہے، جس کے بعد غریب خاندان کا واحد ذریعہ معاش ختم ہو گیا ہے۔

متاثرہ شہری مسمیٰ الف خان ولد منگا (قوم میر، ساکنہ کیرنی، تحصیل و ضلع حویلی) نے اس حوالے سے تھانہ کہوٹہ میں باقاعدہ رپورٹ درج کروائی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یکم اپریل 2026ء کو سائل کا بیٹا کمال دین موضع کیرنی میں بارڈر کے قریب بکریاں چرا رہا تھا کہ سرحد انتہائی نزدیک ہونے کے باعث بکریاں غلطی سے لائن آف کنٹرول کے اس پار چلی گئیں۔ وہاں موجود انڈین آرمی کے گشتی دستے نے پہنچ کر تمام 22 عدد بکریاں پکڑ لیں۔ تاہم طویل وقت گزرنے کے باوجود تاحال بکریاں واپس نہیں مل سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: حویلی کا بڑا اعزاز، سینئر قانون دان شیخ سہیل مسعود ایڈووکیٹ ممبربار کونسل منتخب

الف خان (جنہوں نے ویڈیو بیان میں اپنا نام الف دین بھی ظاہر کیا) نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ایک انتہائی غریب، سفید پوش اور عیال دار شخص ہیں، جن کے بڑے خاندان کا گزر اوقات صرف انہی جانوروں پر منحصر تھا۔ انہوں نے بکریوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی کل 20 سے 22 بکریاں تھیں جن میں 8 سوو (دودھ دینے والی/گابھن) بکریاں اور ایک لائیری (بھیڑ/خاص نسل کا جانور) بھی شامل تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا پورا روزگار ان جانوروں سے وابستہ تھا اور اب ان کا خاندان شدید مالی مشکلات کا شکار ہو چکا ہے۔

متاثرہ بزرگ نے اپنے ویڈیو بیان کے ذریعے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، وزیر اعظم آزاد کشمیر، اور مقامی قیادت فیصل ممتاز راٹھور سمیت عسکری و سول حکامِ بالا سے پرزور اپیل کی ہے کہ ان کے کیس کو سفارتی یا عسکری سطح پر انڈین آرمی کے ساتھ اٹھا کر ان کا مال مویشی واپس دلوایا جائے، اور اگر کسی وجہ سے بکریاں واپس دلوانا ممکن نہ ہو تو انہیں حکومت کی طرف سے اس کا مناسب مالی معاوضہ فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں۔