مہاجرین نشستوں پر مذاکرات کا فائنل رائونڈ شروع،بڑی تبدیلی کا امکان، ماہرین

مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل ) مظفرآباد وفاقی ہائی پاؤر کمیٹی آزاد حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے کون کون شامل ہیں۔ تفصیلات سامنے آگئی

، جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی ہائی پاور کمیٹی کے درمیان پی سی ہوٹل مظفرآباد میں اہم مذاکرات کا دوسرا اور فائنل راونڈ شروع ہوگیا ہے۔

جنہیں آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال اور مہاجرین نشستوں کے تنازع کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پر تفصیلی بات چیت مثبت اور خوشگوار ماحول میں جاری ہے

جبکہ اب تک 37 نکات زیر بحث آ چکے ہیں۔ نمازِ عصر کے لیے وقفے کے بعد مذاکرات کا دوسرا مرحلہ شروع ہونا ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی ہائی پاور کمیٹی میں سینئر سیاسی شخصیات شامل ہیں جن میں سابق وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال، وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ، سابق وفاقی وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ اور وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری شامل ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:میرپور آزاد کشمیر میں موسلا دھار بارش، دن میں رات کا سماں

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں ہیں۔ یاد رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے وفاقی وزیر امور کشمیر کی مذاکرات میں شمولیت پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

مذاکراتی عمل میں آزاد حکومت کی جانب سے وزیراعظم آزاد کشمیر، چیف سیکرٹری آزاد کشمیر، سابق اسپیکر و صدر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر شاہ غلام قادر، قائد حزب اختلاف چوہدری یاسین اور سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق بھی شریک ہیں۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 19 رکنی وفد میں شوکت نواز میر، انجم زمان اعوان، فیصل جمیل کشمیری، راجہ صہیب جاوید، راجہ امجد علی خان ایڈووکیٹ، خواجہ مجتبیٰ بانڈے، افتخار زمان، عمر نذیر کشمیری، سید فیصل گیلانی، چوہدری امتیاز اسلم، راجہ غلام مجتبیٰ، عابد اسلم، خان الیاس خان، سعد انصاری ایڈووکیٹ، ارباب ایڈووکیٹ، توصیف جرال اور ترجمان سید حفیظ ہمدانی شامل ہیں جبکہ خواجہ عامر یوسف زرگر، چوہدری احسن رشید، صاحبزادہ خالد وقاص اور راجہ سعید بھی وفد کے ہمراہ موجود ہیں۔

ذرائع کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 19 جبکہ ہائی پاور کمیٹی کے 11 ارکان مذاکرات میں شریک ہیں۔ فریقین کے درمیان مختلف عوامی، انتظامی اور آئینی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال جاری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 12 مہاجرین نشستوں کا معاملہ مذاکرات کے آخری اور فیصلہ کن مرحلے میں زیر بحث آئے گا۔ اس حوالے سے مختلف سیاسی قوتوں کے مؤقف میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:اذان سے متاثر ہونیوالانومسلم نوجوان حج کرنے مکہ مکرمہ پہنچ گیا

پاکستان پیپلز پارٹی مہاجرین نشستوں کے خاتمے یا ان میں تبدیلی سے متعلق تجاویز پر غور کی حامی سمجھی جا رہی ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) مہاجرین نشستوں کو برقرار رکھنے اور ان کی موجودہ آئینی حیثیت کے تحفظ کے مؤقف پر قائم ہے۔

دوسری جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی مہاجرین نشستوں کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے اور کسی بھی صورت ان نشستوں کے تسلسل کے حق میں نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق ہائی پاور کمیٹی کی جانب سے یہ تجویز بھی زیر غور لائی جا سکتی ہے کہ مہاجرین نشستوں پر انتخابات مؤخر کر دیئے جائیں جبکہ آزاد کشمیر کے دیگر حلقوں میں انتخابی عمل اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق جاری رکھا جائے۔

تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا باضابطہ مؤقف متعلقہ نکتے پر تفصیلی بحث کے بعد سامنے آئے گا۔

مذاکرات میں شریک فریقین نے تاحال میڈیا کے سامنے کسی قسم کا باضابطہ بیان دینے سے گریز کیا تاہم ذرائع کے مطابق مذاکرات تعمیری انداز میں جاری ہیں اور اہم معاملات پر پیش رفت کے امکانات موجود ہیں۔

سیاسی مبصرین کے نزدیک مہاجرین نشستوں سے متعلق بحث نہ صرف مذاکرات کا سب سے حساس مرحلہ ہوگی بلکہ اس کے نتائج آزاد کشمیر کی آئندہ سیاسی سمت کے تعین میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔