ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ان کا ملک جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور ایران کا ایٹمی پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے ۔
ایرانی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق صدر پزشکیان نے اپنے حالیہ بیان میں خطے کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عدم استحکام کا بنیادی سبب اسرائیل کی پالیسیاں ہیں ۔
امریکا کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے حوالے سے ایرانی صدر نے کہا کہ ایران سفارتکاری کے عمل پر یقین رکھتا ہے تاہم ایسا کوئی مذاکراتی عمل قبول نہیں کیا جا سکتا جس میں قومی وقار اور خودمختاری متاثر ہو ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ہم صرف اللہ کے سامنے سر جھکاتے ہیں،مسعود پزشکیان کا امریکا کو جواب
ان کا کہنا تھا کہ ایران دباؤ یا ذلت آمیز شرائط کے تحت مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے تیار نہیں اور ملک اپنے قومی مفادات کے تحفظ کو ہر حال میں مقدم رکھے گا ۔
مسعود پزشکیان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایرانی عوام اور قیادت کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ دنیا کی بڑی طاقتوں کے سامنے اپنے مؤقف پر قائم رہنا آسان نہیں ہوتا اور اس کیساتھ کئی مشکلات اور چیلنجز جڑے ہوتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ طاقتور ممالک کے سامنے مزاحمت اور اصولی مؤقف اختیار کرنے کے لیے صبر، استقامت اور قومی اتحاد کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ایرانی صدر نے خطے میں جاری تنازعات اور ممکنہ تصادم کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ اور کشیدگی کے نتائج ہمیشہ دور رس ہوتے ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مذاکرات میں بنیادی رکاوٹیں وعدوں کی خلاف ورزی، ناکہ بندی اور دھمکیاں ہیں، مسعود پزشکیان
ان کے مطابق یہ تصور درست نہیں کہ کسی بھی تنازع یا جنگ کے بعد حالات فوری طور پر پہلے جیسے ہو جائیں گے کیونکہ ہر قسم کا تصادم سیاسی، معاشی اور سماجی سطح پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے ۔




