امریکا کی جانب سے ایران سے ہتھیار ڈالنے کے مطالبے پر ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ہم مسلمان صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے سر جھکاتے ہیں، اللہ کے سوا کوئی دوسرا ہمیں مغلوب یا مجبور نہیں کر سکتا۔
ایرانی صدر نے ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہاکہ عراقی وزیر اعظم سے کہا کہ امریکا کو مشورہ دیں کہ طاقت کے استعمال کی دھمکیاں واپس لے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی سفارتکاری، بڑی پیشرفت، ٹرمپ کا پراجیکٹ فریڈم عارضی روکنے کا اعلان
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ اخلاق کے بغیر طاقت کھوکھلی ہے ، آج کی دنیا میں افراتفری، جبر، ناانصافی اور لاقانونیت ہے ، یہ سیاست کو طاقت تک محدود کرنے کا نتیجہ ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران خود کو بااخلاق اور ذمہ دار طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے جبکہ ایران کے مخالفین بے لگام اور غیر ذمہ دار قوت کی علامت بنے ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے پر دونوں ممالک کے مابین سخت بیانات کا تبادلہ ہوا تھا لیکن اب پاکستان کی سفارتکاری کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں فریڈم پراجیکٹ عارضی طور پر معطل کردیا ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ اس سے قبل الجزیرہ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ بندی کے لیے امریکا، پاکستان اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
الجزیرہ کا اپنی رپورٹ میں کہنا تھا کہ امریکا ایران جنگ بندی کے لیے واشنگٹن، اسلام آباد اور تہران کے درمیان اس وقت مذاکرات جاری ہیں، تجاویز کا تبادلہ ہو رہا ہے، ریڈلائنز پر بات ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ رکوانے والی دنیا کی طاقتور شخصیت ہیں،ہسپانوی جریدے کا اعتراف
الجزیرہ کے مطابق امریکی بضد ہیں کہ وہ کسی اور نکتے سے پہلے ایران کے ایٹمی پروگرام پر بات کرنا چاہتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی چاہتے ہیں کہ پہلے ایرانی سمندروں کی ناکا بندی ختم ہو۔
رپورٹ کے مطابق جہاں ان مذاکرات کے آگے بڑھنے کا امکان بہت روشن ہے، وہیں یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ کسی ایک واقعے کو لے کر تنازع پھر بڑھ سکتا ہے۔




