ملک بھر میں آج عید الاضحیٰ مذہبی عقیدت، جوش و خروش اور روایتی جذبے کے ساتھ منائی جارہی ہے۔ دن کا آغاز ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں، قصبوں، دیہات اور گلی محلوں میں نمازِ عید کے بڑے بڑے اجتماعات سے ہوا جہاں لاکھوں فرزندانِ اسلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر ادا کیا۔
مساجد، عید گاہوں اور کھلے میدانوں میں نمازِ عید کے اجتماعات منعقد ہوئے جن میں ملکی سلامتی، استحکام اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی سپریم لیڈر کا عیدالاضحیٰ پر اہم پیغام جاری، امریکا کو بھی انتباہ دیدیا
نماز عید کے موقع پر ملک بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری مختلف شہروں میں تعینات رہی تاکہ شہریوں کو پرامن ماحول فراہم کیا جا سکے۔
کئی مقامات پر واک تھرو گیٹس نصب کیے گئے جبکہ داخلی و خارجی راستوں کی سخت نگرانی بھی کی گئی۔
علماء کرام نے اپنے خطبات میں حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی عظیم قربانی کے فلسفے کو اجاگر کرتے ہوئے مسلمانوں پر اتحاد، صبر، بھائی چارے اور ایثار کی اہمیت پر زور دیا۔
مختلف اجتماعات میں وزیراعظم شہباز شریف اور سید عاصم منیر کی خطے میں امن کے قیام کے لیے کوششوں کو سراہا گیا اور دعا کی گئی کہ پاکستان کی سفارتی اور ثالثی کوششیں کامیاب ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: عیدالاضحیٰ پر 33سال بعد خانہ کعبہ پر حیران کن منظر کی پیشگوئی
عید اجتماعات میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات کی شدید مذمت بھی کی گئی اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پوری قوم سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
نماز عید کے بعد سنت ابراہیمی کی پیروی میں جانوروں کی قربانی کا سلسلہ شروع ہوگیا اور شہری بڑی تعداد میں قربان گاہوں اور مویشی منڈیوں کا رخ کر رہے ہیں۔




