ارضِ مقدس میں حج کا رکنِ اعظم ’وقوفِ عرفہ‘ عقیدت و احترام کے ساتھ ادا کیا جا رہا ہے، جہاں دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں عازمینِ حج کا ایک عظیم اور ایمان افروز اجتماع ہے۔ اس مبارک اور مقدس موقع پر میدانِ عرفات میں واقع تاریخی مسجدِ نمرہ سے خطبہِ حج دیا گیا، جس میں امتِ مسلمہ کی ہدایت، وحدت، یکجہتی اور اخلاقی و روحانی اصلاح کے لیے انتہائی جامع، مفصل اور اہم ترین پیغام دیا گیا ہے۔
امامِ مسجد نبوی کا خطبہ حج اور لائیو ترجمہ:
حج کے اس عظیم الشان موقع پر امام مسجدِ نبوی ﷺ فضیلت الشیخ ڈاکٹر علی عبدالرحمن الحذیفی نے مسجدِ نمرہ میں خطبہِ حج دیا، جسے دنیا بھر میں کروڑوں مسلمانوں کے لیے مختلف زبانوں میں براہِ راست نشر کیا گیا۔ سعودی حکومت کی جانب سے اس خطبے کو اردو سمیت دنیا کی تمام بڑی زبانوں میں براہِ راست ترجمہ کر کے پیش کیا گیا تاکہ اسلام کا یہ آفاقی پیغام دنیا کے کونے کونے تک عام ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں: حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ آج ، حجاج میدان عرفات میں جمع
تقویٰ، توحید پر استقامت اور ختمِ نبوت کا پیغام:
مسجدِ نمرہ میں امام مسجدِ نبوی ﷺ فضیلت الشیخ ڈاکٹر علی عبدالرحمن الحذیفی نے خطبہ حج دیتے ہوئے امتِ مسلمہ کو مخاطب کیا اور کہا کہ ’اے ایمان والو! اپنے رب کے ساتھ جڑے رہو، اللہ سے ڈرو اور تقویٰ اختیار کرو۔ تقویٰ اختیار کرنا ایمان والوں کی شان ہے اور تقویٰ اختیار کرنے والوں کو ہی رب کی طرف سے جنت کی دائمی بشارت سنائی گئی ہے‘۔ انہوں نے عقیدہ توحید پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے اور رب کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے، کیونکہ توحید پر عمل درآمد اہل ایمان کا خاصا ہے، اور جب ایمان والوں کے سامنے اللہ کی آیات پیش کی جاتی ہیں تو ان کے دل نرم پڑ جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے خطبے میں واضح کیا کہ اس بات پر کامل ایمان لازم ہے کہ نبی کریم ﷺ اللہ کے آخری رسول اور خاتم النبیین ہیں۔
تکمیلِ دین، شریعت کی آسانی اور یومِ عرفہ کی دعا:
فضیلت الشیخ ڈاکٹر علی عبدالرحمن الحذیفی نے خطبے میں تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ اپنی امت کو حج کی دعوت دو۔ میدانِ عرفات میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو گواہ بنا کر اعلان کیا کہ آج دین مکمل کر دیا ہے، لہذا اللہ تعالی نے فرمایا کہ حضورﷺ کی تعلیمات پر عمل کریں۔ اللہ نے دین میں آپ کے لیے کوئی مشکل یا تنگی نہیں رکھی، اور سب سے بہترین دعا وہ ہے جو یومِ عرفہ کے دن مانگی جائے۔
ظلم اور ناشکری کا انجام:
انہوں نے امتِ مسلمہ کو خبردار کرتے ہوئے اپنے ایمان افروز خطبے میں فرمایا کہ ’تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے ظلم کا راستہ اپنایا اور اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کی، ان سے وہ نعمتیں چھین لی گئیں اور وہ زوال کا شکار ہوئیں‘۔ انہوں نے نصیحت کی کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے ان سے صحیح معنوں میں فائدہ اٹھائیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی ایک ایسی قوم کا ذکر کیا ہے جو ظلم کرتی تھی تو اللہ نے اس سے اپنی تمام نعمتیں چھین لیں۔
صبر اور اجرِ عظیم کا الٰہی وعدہ:
خطبہ حج میں مسلمانوں کو آزمائشوں پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا گیا کہ مسلمانوں کو ہر مصیبت، پریشانی اور آزمائش کے وقت صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ صبر کرنے والوں کے لیے اللہ کریم نے اپنے ہاں اجرِ عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔
معاشرتی اصلاح، سچائی اور عہد کی پاسداری:
امامِ عالی مقام نے اپنے خطبے میں مسلمانوں کے آپسی تعلقات، اخلاقیات اور ایک بہترین اسلامی معاشرے کی تشکیل پر خصوصی زور دیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ہمیشہ سچ بولیں اور ہر قسم کی غلط بیانی یا جھوٹ سے سختی سے گریز کریں۔ معاشرے کو تباہ کرنے والی برائیوں یعنی بدعت اور غیبت سے خود کو ہمیشہ دور رکھیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے عہد کی پاسداری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’اے ایمان والو! جب کسی سے کوئی وعدہ کرو تو اپنے اس عہد کی پاسداری کرو، کیونکہ اسلام میں امانت اور عزم کی بڑی اہمیت ہے‘۔
مسلم اتحاد اور وحدتِ امت کا ضابطہ:
حج کے اس عظیم الشان موقع پر اور عام زندگی میں بھی کسی قسم کے لڑائی جھگڑے اور فتنہ و فساد سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔ خطبے میں کہا گیا کہ مسلمانوں کو کسی بھی ایسے عمل سے گریز کرنا چاہیے جس سے مسلمانوں کی آپسی وحدت، بھائی چارے اور اتحاد کو کوئی نقصان پہنچے۔ یاد رکھیں کہ اللہ اور بندے کا یہ مقدس تعلق انسان کی آخرت میں نجات کے لیے ہے۔
مزید پڑھیں: لبیک اللہم لبیک کی صدائیں، لاکھوں عازمینِ حج اعظم رکن وقوفِ عرفہ کے لیے میدانِ عرفات روانہ
مسجدِ نمرہ اور خطبہِ حج کی تاریخی اہمیت:
واضح رہے کہ میدانِ عرفات میں واقع مسجدِ نمرہ وہ تاریخی مقام ہے جہاں خطبتہ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے اپنا تاریخی آخری خطبہ دیا تھا، جسے انسانی حقوق کا پہلا عالمی منشور بھی کہا جاتا ہے۔ اسی سنت کی پیروی کرتے ہوئے ہر سال 9 ذوالحجہ کو یہاں سے خطبہِ حج دیا جاتا ہے۔ یہ خطبہ محض اس میدان میں موجود لاکھوں حجاج کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ یہ اس وقت دنیا بھر میں موجود 2 ارب سے زیادہ مسلمانوں کے لیے سالانہ گائیڈ لائن (لائہ عمل) کی حیثیت رکھتا ہے۔ مسلم امہ اس خطبے کو اسلام کے بنیادی اصولوں کی تجدید اور اپنے عقائد کی مضبوطی کا سب سے بڑا ذریعہ مانتی ہے۔




