حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ آج ، حجاج میدان عرفات میں جمع

حج کا رکنِ اعظم وقوفِ عرفات آج منگل 26 مئی کو ادا کیا جا رہا ہے، جس کے لیے دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں عازمینِ حج میدانِ عرفات میں جمع ہو چکے ہیں۔ سعودی عرب میں 9 ذوالحجہ کے آغاز کے ساتھ ہی تمام عازمینِ حج نمازِ ظہر سے قبل خیموں کے شہر منیٰ سے میدانِ عرفات پہنچ جائیں گے۔

میدانِ عرفات کی تاریخی اور مرکزی مسجدِ نمرہ میں خطبہ حج دیا جائے گا، جسے سننے کے لیے لاکھوں حجاجِ کرام وہاں موجود ہوں گے۔ عازمینِ حج، خطبۂ حج کی سماعت کے فوراً بعد ظہر اور عصر کی نمازیں قصر و جمع کی صورت میں ایک ساتھ ادا کریں گے، جس کے بعد حجاج کرام غروبِ آفتاب تک وقوفِ عرفات کے دوران شدید رقت آمیز دعاؤں، استغفار اور مناجات میں مصروف رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: لبیک اللہم لبیک کی صدائیں، لاکھوں عازمینِ حج اعظم رکن وقوفِ عرفہ کے لیے میدانِ عرفات روانہ

میدانِ عرفات میں سعودی انتظامیہ کی جانب سے عازمین کے لیے مثالی اور سیکیورٹی کے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ حجاج کی لاکھوں کی تعداد کو منظم طریقے سے کنٹرول کرنے کے لیے مسجدِ نمرہ اور جبل الرحمہ کی طرف جانے اور وہاں سے واپس آنے والے راستوں کو یکسر جدا کیا گیا ہے، تاکہ کسی بھی طرح کے ٹکراؤ یا حادثے کا اندیشہ نہ رہے اور تمام حجاج کسی تنگی یا پریشانی کا سامنا کیے بغیر آسانی سے اپنی مقررہ منزل تک پہنچ سکیں۔

میدانِ عرفات میں مقررہ وقت تک وقوف مکمل کرنے کے بعد، تمام حجاج کرام غروبِ آفتاب کے فوراً بعد مزدلفہ کی جانب روانہ ہوں گے۔ مزدلفہ پہنچنے پر حجاجِ کرام مغرب اور عشا کی نمازیں ایک ساتھ (جمع بین الصلاتین) ادا کریں گے اور حج کی روایات کے مطابق یہ مقدس شب مزدلفہ کے میدان میں کھلے آسمان تلے عبادت اور آرام میں گزاریں گے۔

مزید پڑھیں: مناسک حج کا آغاز، لاکھوں عازمین خیموں کے شہر منیٰ پہنچنا شروع

اگلے دن یعنی 10 ذوالحجہ کو حجاج کرام جمرات کا رخ کریں گے جہاں وہ شیطان کو کنکریاں (رمی جمرات) ماریں گے۔ رمی جمرات کا یہ اہم فریضہ انجام دینے کے بعد حجاج کرام سنتِ ابراہیمی کی پیروی میں قربانی کریں گے اور پھر حلق (سر منڈوانا یا بال کٹوانا) کروا کر اپنا احرام اتاریں گے۔ آخری مراحل میں حجاجِ کرام مکہ مکرمہ جا کر طواف و زیارت مکمل کریں گے اور پھر واپس منیٰ کے خیموں میں چلے جائیں گے۔