فیلڈمارشل کے ایران دورے کا کیا نتیجہ نکلے گا ؟

تحریر: ابوبکر قسام

ہمارے ہاں ایک عجیب سی بیماری ہے۔ لوگوں کو ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر، سکرینوں پر دوسروں کے گھر جلتے دیکھنے میں ایک پراسرار سی سنسنی اور مزہ آتا ہے۔ گزشتہ رات صحرانورد کا فون آیا۔ لہجے میں ایک عجیب سی عجلت، خوشی اور سنسنی تھی۔ بولا، “ابوبکر، خبر دیکھی؟ مشرقِ وسطیٰ میں بس اب کام ہونے والا ہے۔ ایران پر حملہ ہوا کہ ہوا۔ خلیج میں آگ لگنے لگی ہے، تو نے سونا یا ڈالر لے کر رکھے ہیں یا نہیں؟”

میں نے مسکرا کر فون بند کر دیا۔ صحرانورد اکیلا نہیں، ہمارے ہاں ہر ڈرائنگ روم میں ایک عدد جیو پولیٹیکل ارسطو بیٹھا ہے جو چائے کی پیالی میں تیسری جنگ عظیم کروانے کے لیے بے تاب ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ جنگ کوئی نیٹ فلکس کا نیا سیزن ہے جس کی لائیو کوریج دیکھ کر وہ پاپ کارن کھائیں گے۔

ان جنگی جنونیوں، سوشل میڈیا کے بقراطوں اور عالمی اسلحہ ساز فیکٹریوں کے ٹھیکیداروں کو لگتا تھا کہ بس اب میزائل چلیں گے اور یہ خطہ ایک راکھ کے ڈھیر میں بدل جائے گا۔ لیکن ان کے اس سارے سکرپٹ اور سنسنی پر اس وقت پانی پھر گیا، جب اچانک خبر آئی کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر خاموشی سے تہران میں اترے، اور 24 گھنٹے کے اندر اندر پوری بساط ہی الٹ کر رکھ دی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:کوہستان میں ایک کلرک سے 1 ارب 30 کروڑ نکل آئے ، مگر کیسے ؟

یہ کوئی روایتی، مسکراہٹوں اور فوٹو سیشن والا سفارتی دورہ نہیں تھا۔ یہ باقاعدہ ایک بائی پاس آپریشن تھا، جس کی خبر عالمی جنگی ‘ہاکس’ (Hawks) کو اس وقت ہوئی جب مریض خطرے سے باہر آ چکا تھا۔ ذرا سین تصور کریں؛ پوری دنیا کی سانسیں رکی ہوئی ہیں، مغربی ایشیا بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ایک ماچس کی تیلی کا انتظار کر رہا ہے، اور عین اس وقت پاکستان کی عسکری قیادت تہران کے بند کمروں میں بیٹھ کر وہ ماچس ہی غائب کر دیتی ہے۔

آئی ایس پی آر کا بیان تو بڑا نپا تلا اور سرکاری سا ہے کہ “مختصر اور نتیجہ خیز دورہ، ثالثی اور کشیدگی میں کمی پر اتفاق”۔ مگر سفارتکاری کی باڈی لینگویج اور نزاکتیں سمجھنے والے جانتے ہیں کہ اس ایک لائن کے پیچھے کتنی بڑی گیم ہوئی ہے۔ فیلڈ مارشل کا یہ دورہ دراصل ان عالمی سازشیوں کے جبڑے پر ایک زوردار مکا ہے جو چاہتے تھے کہ اس خطے میں مسلمان آپس میں دست و گریبان ہوں، تیل کی سپلائی لائنیں کٹیں، پوری دنیا میں معاشی بلیک آؤٹ ہو اور وہ اپنا اسلحہ اور منجن بیچیں۔

تہران کی قیادت کے ساتھ ان 24 گھنٹوں کے طویل اور اعصاب شکن مذاکرات نے خطے کی سیاست میں ایک نیا زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ ایرانی حکومت کا فوری طور پر یہ مان لینا کہ مغربی ایشیا میں قیام امن اور کشیدگی کو روکنے کے لیے سفارتی عمل تیز کیا جائے گا، اس بات کا ثبوت ہے کہ بند کمروں میں کی گئی گفتگو میں کتنا وزن تھا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم فیصل راٹھور کا بڑا وار، اہم شخصیات پیپلزپارٹی میں شامل

جنگ کے نعرے لگانا اور ٹوئٹر پر بیٹھ کر میزائل فائر کرنا بہت آسان ہے۔ لیکن سفارتکاری کے اس بارودی سرنگوں والے میدان میں قدم رکھ کر، دو بپھرے ہوئے فریقین کے درمیان امن کی گارنٹی لانا اور خطے کو تباہی سے بچانا خالصتاً ‘اسٹیٹس مین شپ’ (Statesmanship) اور کلیجے کا کام ہے۔ پاکستان نے اس مختصر مگر فیصلہ کن دورے سے دنیا کو یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ وہ اس خطے میں محض کوئی تماشائی یا کسی کی پراکسی نہیں ہے، بلکہ وہ ‘ماسٹر کی’ (Master Key) ہے جس کے بغیر مشرقِ وسطیٰ اور مغربی ایشیا کے امن کا کوئی قفل نہیں کھلتا۔

خون کی ہولی دیکھنے کے منتظر ڈرائنگ روم کے ان ارسطوؤں اور عالمی ٹھیکیداروں کو اب کوئی اور مشغلہ ڈھونڈنا پڑے گا، کیونکہ فی الحال تو ان کی لگائی ہوئی آگ پر سفارتکاری کا بلڈوزر پھر چکا ہے۔

یہاں کسی کو بھی اپنا پتا نہیں ملتا
ہم اس غبار میں راہِ سفر بناتے ہیں