تحریر: ابوبکر قسام
ہمارے پرانے محلے میں ایک سیٹھ فضل دین ہوا کرتے تھے۔ ساٹھ کی دہائی میں انہوں نے ٹرانسپورٹ کا کام شروع کیا اور دن رات محنت کر کے 80 کی دہائی تک ان کے پاس 45 شاندار بسوں اور ٹرکوں کا فلیٹ بن گیا۔ پورے علاقے میں ان کی بڑی چوہدراہٹ تھی۔ پھر سیٹھ صاحب گزر گئے اور چلتا چلایا کاروبار ان کے نالائق بیٹوں کے ہاتھ آ گیا۔
آج حالت یہ ہے کہ ان کے پاس صرف 13 کھٹارا گاڑیاں بچی ہیں، جن میں سے آدھی ہر وقت ورکشاپ میں کھڑی رہتی ہیں۔ مگر کمال کی ڈھٹائی دیکھیے کہ بیٹے آج بھی سوٹ بوٹ پہن کر چوہدری بنے پھرتے ہیں
محلے داروں کو بتاتے ہیں کہ “الحمدللہ، ہمارا کاروبار منافع میں ہے”۔ کوئی پوچھے کہ بھئی جب گاڑیاں ہی نہیں چل رہیں، سواریاں کوئی بیٹھتی نہیں، تو منافع کیسا؟ تو اندر کی خبر رکھنے والے بتاتے ہیں کہ یہ منافع سواریاں بٹھا کر نہیں، بلکہ پرانی گاڑیوں کے ٹائر، انجن اور اثاثے بیچ بیچ کر کاغذی ہیر پھیر سے دکھایا جا رہا ہے۔
یہ کہانی کسی سیٹھ فضل دین کے بیٹوں کی نہیں، بلکہ ہمارے قومی ادارے ‘پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن’ (PNSC) کی ہے۔ کبھی یہ ادارہ ہمارا قومی فخر اور ہماری لائف لائن ہوا کرتا تھا۔ 1947 میں صرف 3 جہازوں سے شروع ہونے والا یہ سفر 1982 تک 45 شاندار بحری جہازوں تک پہنچ گیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب ہمارے جہاز دنیا کے سمندروں کا سینہ چیرتے تھے، ملکی ایکسپورٹ اور امپورٹ کا بوجھ اٹھاتے تھے اور قومی خزانے میں منافع لا کر دیتے تھے۔ مگر پھر اس محکمے کو بھی ہماری بیوروکریسی، مس گورننس، سیاسی مداخلت اور کمیشن مافیا کی نظر لگ گئی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کارکردگی کا دفاع ممکن نہ ہو تو میڈیا پرحملے شروع ہوجاتے ہیں،عطا تارڑ کا سہیل آفریدی کی دھمکی پر ردعمل
آج اس محکمے کی حالت دیکھ کر رونا آتا ہے۔ 45 سے سکڑ کر ہم صرف 13 جہازوں پر آ گرے ہیں، اور ان میں سے بھی 50 فیصد جہاز 20 سال سے پرانے اور خستہ حال ہیں۔ ان کا حجم اور کوالٹی دنیا کے معیار سے اتنی پیچھے رہ گئی ہے کہ کوئی ان پر مال لادنے کو تیار نہیں۔ کمال کی بات یہ ہے کہ آج بھی مالی سال 25-2024 کی فنانشل رپورٹس میں ‘منافع’ دکھایا جاتا ہے۔ مگر یہ منافع سمندروں پر راج کر کے نہیں، بلکہ پرانے اثاثے بیچ کر اور چارٹر کے ذریعے دکھایا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی آمدنی میں 19 فیصد کمی آ چکی ہے اور پہلے کوارٹر کے منافع میں 34 فیصد کا غوطہ لگ چکا ہے۔
جب گھر کے برتن بیچ کر گزارہ ہونے لگے تو پھر کرائے کے برتنوں پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے۔ آج پاکستان کی کل تجارتی کارگو کا صرف 11 فیصد حصہ پی این ایس سی اٹھاتا ہے، باقی 90 فیصد سامان غیر ملکی جہاز لاتے اور لے جاتے ہیں۔
اس سستی اور نااہلی کی قیمت ہم ہر سال 4 سے 8 ارب ڈالر (بذریعہ زرمبادلہ) غیر ملکی کمپنیوں کو کرائے کی مد میں ادا کر کے چکا رہے ہیں۔ ذرا سوچیے، جو ملک آئی ایم ایف کے آگے ایک ایک ارب ڈالر کے لیے منتیں ترلے کر رہا ہو، وہ اپنی نااہلی کی وجہ سے اربوں ڈالر غیروں کی جیب میں ڈال رہا ہے۔
اپنے پڑوسیوں کو دیکھ لیں۔ انڈیا کی شپنگ کارپوریشن کے پاس آج لگ بھگ 64 جہاز ہیں، سری لنکا جیسے چھوٹے ملک کے پاس 95 جہاز ہیں۔ 1960 کی دہائی میں جب ہمارے پاس 40 سے زیادہ جہاز تھے، تو جنوبی کوریا کے پاس بمشکل 10 یا 15 جہاز تھے۔ آج جنوبی کوریا کے پاس 2100 اور انڈونیشیا کے پاس 11,400 بحری جہاز ہیں۔ اور ہم؟ ہم 45 سے 13 پر آ کر بغلیں بجا رہے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر میں25مئی سے 31مئی تک شدید ہیٹ ویو کا امکان
جب کوئی مریض آئی سی یو میں آخری سانسیں لے رہا ہو، تو اسے عام ڈاکٹروں سے ہٹا کر کسی اسپیشلسٹ کے حوالے کرنا پڑتا ہے۔ شکر ہے کہ دیر سے ہی سہی، مگر حکومت کو یہ بات سمجھ آ گئی ہے۔ اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس ڈوبتے ہوئے جہاز (PNSC) کا کنٹرول ‘نیشنل لاجسٹکس سیل’ (NLC) کے حوالے کیا جائے۔ NLC، جس کا ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور سپلائی چین کے حوالے سے ایک شاندار اور پروفیشنل ٹریک ریکارڈ ہے، اب اس مردہ ہاتھی میں جان ڈالے گا۔
اس نئے پلان کے تحت NLC کی پروفیشنل مینجمنٹ اس ادارے کا کنٹرول سنبھالے گی۔ PNSC کے 30 فیصد شیئرز کو مارکیٹ ریٹ پر لا کر نیا سرمایہ (Capital) اکٹھا کیا جائے گا تاکہ خستہ حال بیڑے کی جگہ نئے اور جدید جہاز خریدے جا سکیں۔ ذرا سوچیے، جب سمندر میں PNSC کے جہاز اور خشکی پر NLC کے ٹرک مل کر ایک ‘سپلائی چین’ بنائیں گے تو کارکردگی کہاں جائے گی؟ نہ صرف بحری اور بری ٹرانسپورٹ کا ایک بہترین گٹھ جوڑ (Synergy) بنے گا، بلکہ ملک کے وہ 8 ارب ڈالر بھی بچیں گے جو ہم گوروں کو مال برداری کی مد میں دیتے ہیں۔ اس سے روزگار بھی بڑھے گا، جہاز سازی کی صنعت (Maritime Ecosystem) بھی پروان چڑھے گی اور قومی خزانے کو حقیقی ٹیکس بھی ملے گا۔
پی این ایس سی کی تباہی محض ایک کارپوریشن کی ناکامی نہیں تھی، یہ ان مفاد پرستوں اور نالائقوں کی کہانی تھی جنہوں نے اپنے کمیشن کے چکر میں ملکی سمندری تجارت کو غرق کر دیا۔ اب NLC کی انٹری سے امید کی ایک بڑی کرن پیدا ہوئی ہے۔ اگر اس ادارے کو جدید خطوط پر استوار کر لیا جائے تو ہم دوبارہ سمندروں پر اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکتے ہیں، وگرنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
وائے ناکامی! متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا
