اسماعیلی فرقے کے روحانی پیشوا پرنس شاہ رحیم الحسینی آغا خان پنجم امامت سنبھالنے کے بعد پہلی بار پاکستان پہنچ گئے ہیں جہاں ان کی آمد پر اسلام آباد کو خیر مقدمی بینروں سے سجا دیا گیا ہے۔
پرنس رحیم آغا خان 6 روزہ سرکاری دورے پر نور خان ایئربیس پہنچے جہاں صدر مملکت آصف علی زرداری سمیت اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا۔
ذرائع کے مطابق پرنس رحیم آغا خان کی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: پرنس رحیم آغا خان اسماعیلی کمیونٹی کے نئے روحانی پیشوا مقرر
حکومتی سطح پر اس دورے کو غیرمعمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں ایئرپورٹ سے شہر تک اہم شاہراہوں پر خیر مقدمی بینرز آویزاں کیے گئے ہیں، جن پر پرنس رحیم آغا خان کے ہمراہ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی تصاویر بھی نمایاں ہیں۔
امامت سنبھالنے کے بعد اسماعیلیوں کے روحانی پیشوا اور 50 ویں امام پرنس شاہ رحیم الحسنی کا یہ پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔ اسماعیلی برادری میں جشن کا سماں ہے۔
پرنس رحیم اپنے پہلے دورے کے دوران زیادہ وقت گلگت بلتستان اور چترال میں گزاریں گے۔
اسماعیلی کونسل کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق پرنس رحیم کا اسلام آباد میں ایک روزہ قیام ہے، جبکہ وہ 21 مئی سے 25 مئی تک گلگت بلتستان اور چترال میں قیام کریں گے، جہاں وہ مختلف مقامات پر اسماعیلی برادری سے ملاقاتیں اور دیدار کریں گے۔
اسماعیلی کونسل کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق 21 مئی سے وہ گلگت بلتستان کے دورے کا آغاز کریں گے اور گلگت بلتستان کے علاقے گوپس پہنچیں گے، جہاں تاؤس میں اپنے مریدوں کو دیدار دیں گےجبکہ 22 مئی کو پاسو، ہنزہ اور گاہکوچ میں، 23 مئی کو اپر چترال کے پروک لاشٹ میں، جبکہ 25 مئی کو دوبارہ پروک اور بعد ازاں گرم چشمہ، لوئر چترال میں دیدار کی تقریبات منعقد ہوں گی۔ اس دوران وہ مختلف ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ بھی لیں گے۔
اپر چترال اور گلگت بلتستان میں انتظامات کو حتمی شکل دی جا چکی ہےجبکہ سکیورٹی اور لاجسٹک انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پرنس کریم کا انتقال،آزادکشمیر میں آج یوم سوگ، پرچم سرنگوں رہے گا
خصوصی افراد کی آمد و رفت کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ اسماعیلی کونسل کے مطابق ہر خصوصی فرد کے ساتھ چار اسماعیلی رضاکار تعینات کیے جائیں گے تاکہ انہیں آمد و واپسی تک سہولت فراہم کی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق اس دورے کے دوران پرنس رحیم آغا خان کراچی اور اسلام آباد سمیت دیگر شہروں میں اسماعیلی برادری سے اجتماعی ملاقات نہیں کریں گے، جس کے باعث چترال اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے اسماعیلی افراد کی بڑی تعداد اپنے آبائی علاقوں کا رخ کر رہی ہے تاکہ دیدار میں شرکت کر سکے۔
گلگت بلتستان اور چترال میں ابھی سے جشن کا آغاز ہو چکا ہے اور مختلف مقامات پر گیٹس لگا کر استقبال کیا جا رہا ہے، جبکہ جگہ جگہ کیمپس قائم کیے گئے ہیں تاکہ مریدوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔




