سڑھیاں تعلیمی پیکیج میں نظر انداز، اہلیان علاقہ کا شدید احتجاج

کہوٹہ(کشمیر ڈیجیٹل) تحصیل ممتاز آباد کے علاقے سڑھیاں میں تعلیمی پیکیج میں مبینہ طور پر نظر اندازکئے جانےکا انکشاف

عوام میں شدید بے چینی اور مایوسی،اہلیانِ سڑھیاں کا شدید احتجاج، سڑھیاں حویلی کو مکمل طور پر اگنور کرنے پر وزیراعظم فیصل راٹھور سے نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔

مقررین نے احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے آباؤ اجداد عرصہ دراز سے راجہ فیصل ممتاز راٹھور اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ وابستہ رہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پی این ایس سی کی بحالی: نیشنل لاجسٹکس سیل کو اہم ذمہ داریاں سونپنے کا فیصلہ

انہوں نے یاد دلایا کہ مرحوم وزیراعظم ممتاز راٹھور نے سڑھیاں میں سکولوں کی اپگریڈیشن کے وعدے کئے تھے۔مقررین کے مطابق 2011 کے انتخابات میں بھی سڑھیاں نے پیپلز پارٹی کو واضح کامیابی دلائی

جبکہ 2021 میں بھی بھرپور حمایت حاصل رہی، مگر اس کے باوجود علاقے میں ترقیاتی اور تعلیمی کام نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 2011 کے پانچ سالہ دور میں بھی سڑھیاں کے لیے “صفر فیصد” کام ہوا اور موجودہ دور میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔

اہلیانِ سڑھیاں کا مشترکہ مطالبہ ہے کہ گرلز مڈل سکول سڑھیاں کو فوری طور پر ہائی سکول کا درجہ دیا جائے تاکہ طالبات کو بہتر تعلیمی سہولیات میسر آسکیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:کیا این ایف سی ایوارڈ پاکستان کو مستحکم کرنے کی بجائے مسائل پیدا کر رہا ہے؟

اس موقع پر سید زاہد حسین کاظمی، صوبیدار ریٹائرڈ سید معشوق حسین کاظمی، سید مرتضیٰ حسین کاظمی اور دیگر نے کہا کہ وزیراعظم آزاد کشمیر نے مخالفین کے حلقوں میں بھی بلا تفریق سکولوں کی اپگریڈیشن کی ۔

، اس لیے اپنے ووٹرز کو نظر انداز کرنا افسوسناک ہے۔ اگر گرلز مڈل سکول سڑھیاں کو فوری طور پر ہائی سکول کا درجہ نہ دیا گیا تو احتجاجی تحریک مزید شدت اختیار کرے گی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل باشعور ہے اور سیاسی حالات پر گہری نظر رکھتی ہے، اس لیے عوامی محرومیوں کا فوری ازالہ کیا جائے۔

اہلیانِ سڑھیاں نے امید ظاہر کی کہ راجہ فیصل ممتاز راٹھور ان کے جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کرتے ہوئے علاقے کے عوام میں پائی جانے والی تشویش کا خاتمہ کریں گے۔