مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں مذہبی امور کی صدارت نے اعلان کیا ہے کہ مسجد نبوی کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی منگل 26مئی کو مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیں گے۔
شیخ علی بن عبدالرحمن بن علی الحذیفی کو سعودی عرب اور دنیا میں قرآن کریم کے سب سے ممتاز قراء میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امسال ایک لاکھ 79 ہزار 210 پاکستانی عازمین فریضہ حج ادا کریں گے: ترجمان وزارتِ مذہبی امور
مکہ مکرمہ ریجن کے قریہ القرن میں سال یکم رجب ہجری 1366 میں پیدا ہوئے، وہ ایک راسخ العقیدہ مذہبی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے والد سعودی افواج کے امام و خطیب تھے۔
شیخ علی الحذیفی نے ابتدائی قرآنی تعلیم اپنے قصبے میں حاصل کی۔ شیخ محمد بن ابراہیم الحذیفی کے حلقہ قرآن سے حفظ کیا۔بعد ازاں بلجرشی کمشنری کے سکول اور بلجرشی کالج سے تعلیم حاصل کی۔
ریاض کی جامعہ امام محمد بن سعود الاسلامیہ کے شعبہ شریعہ سے 1392 ہجری میں فارغ ہوئے، انہیں بلجرشتی کمشنری کے کالج میں استاد کے طور پر تعینات کیا گیاجہاں وہ تفسیر و توحید، النحو و الصرف اور خطاطی کی تعلیم سے وابستہ ہوگئے۔
اس کے ساتھ بلجرشی کمشنری کی جامع مسجد میں امام و خطیب کے طور پر بھی فرائض ادا کئے۔
شیخ الحذیفی نے سال 1395 ہجری میں مصر کی معروف جامعہ الازہر سے ماسٹرز اور اس کے بعد فقہ فیکلٹی اورعلوم اسلامیہ کے شعبے میں ڈاکٹریٹ کیا۔
انہیں سال ہجری 1397 میں اسلامی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر تعینات کیا گیا۔ فیکلٹی آف شریعہ میں توحید، فقہ کی تدریس کے فرائض کے ساتھ فیکلٹی آف حدیث اور اصول الدین کے شعبے میں بھی طلبہ کی رہنمائی کی۔
قرآن کریم کالج میں بھی قرات کی اقسام کی تعلیم دی۔ وہ سعودی عرب اور عالم اسلام کے ممتاز قراء شمار کیے جاتے ہیں۔
ان کی آواز میں قرات کی ریکارڈنگ مملکت اور بیرونی ملکوں کے ریڈیو سٹیشنز میں موجود ہیں۔انہوں نے معروف قراء سے قرات کی سند حاصل کی، جن میں نمایاں ترین شیخ احمد عبدالعزیز الزیات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:عازمینِ حج کے لیے نئے انتظامی اور حفاظتی اقدامات متعارف
شیخ الحذیفی مسجد قبا کے امام و خطیب، سال ہجری 1399 سے 1401 تک مسجد نبوی کے امام و خطیب رہے۔ سال 1401 میں مسجد الحرام میں امام و خطیب مقرر کیے گئے بعد ازاں 1402 سے تاحال مسجد نبوی کے امام و خطیب ہیں۔
کنگ فہد قرآن کریم پرنٹنگ کمپلیکس میں قرآن پاک کی طباعت کے لے مصحف ریکارڈنگ نگران کمیٹی کے رکن، قرآن پاک کی طباعت کی سپریم کونسل کے رکن بھی ہیں۔




