اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) معروف تجزیہ نگار عبدالمنان سیف اللہ نے کشمیر ڈیجیٹل کے پروگرام میں عروج فاطمہ کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حلقہ سات سے چوہدری رشید سابق وزیرحکومت آزادکشمیر اور سابق پیپلزپارٹی رہنما کی مسلم لیگ ن میں شمولیت کے بعد آزادکشمیر کی سیاست میں گرما گرمی شروع ہوگئی ہے ۔
عبدالمنان سیف اللہ نے کہا کہ دیوان علی چغتائی چونکہ مسلم کانفرنس سے دیگر پارٹیوں میں ہوتے ہوئے ایک بار پھر مسلم لیگ ن میں شامل ہوگئے ہیں مسلم لیگ ن کی قیادت ایک بار پھر پرانے لیڈروں پر انحصار کرنے لگی ہے جو پہلے مسلم کانفرنس یا پی ٹی آئی میں شامل تھے ۔
عبدالمنان سیف اللہ کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی رہنما چوہدری رشید نے خاموش چال چل کر آزادکشمیر کی سیاست میں ہلچل مچادی ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم:سیکرٹری جنرل ن لیگ طارق فاروق کی سختی سے تردید
مسلم لیگ ن میں چوہدری رشید کی انٹری اس وقت ہوئی جب دیوان علی چغتائی مسلم لیگ ن میں شمولیت کے پر تول رہے تھے کہ اچانک چوہدری رشید نے مسلم لیگ ن میں انٹری ماری اور دیوان علی چغتائی کا راستہ روکنے کی کوشش کی ۔
سابق وزیرحکومت و سابق رہنما پیپلزپارٹی چوہدری رشید کی وفاقی وزیررانا ثناء اللہ کیساتھ تصویر وائرل ہوتے ہی وزیراعظم آزادکشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے انہیں وزارت سے ہٹا دیا ۔
سابق وزیراعظم فاروق حیدر بہت ضدی ہیں ۔ اپنے ووٹ کی خاطر انہوں نے دیوان علی چغتائی کی مسلم لیگ میں شمولیت سے قبل چوہدری رشید کو مسلم لیگ ن میں شامل کروادیا ۔
تاہم اگر دیوان علی چغتائی بھی مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرتے ہیں تو تھرڈ پارٹی کیلئے الیکشن جیتنے کی راہ ہموار ہوجائے گی ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:الیکشن کمیشن گلگت بلتستان: پی ٹی آئی امیدواروں کو انتخابی نشان الاٹ، ڈیموکریٹک پارٹی پر پابندی
عبدالمنان سیف اللہ کا کہنا ہے کہ حلقہ چار اور حلقہ سات میں مسلم لیگ ن کے پرانے اور نئے امیدواروں کی بڑی تعداد نے ٹکٹ کیلئے اپلائی کررکھا ہے ۔
اب قیادت نے فیصلہ کرنا ہے کہ کس کو ٹکٹ دینا ہے اور کس کو نہیں ۔ تاہم جیسے ہی ٹکٹوں کی تقسیم کا اعلان ہوگا تو پھر لوگ اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرینگے ۔




