باغ( کشمیر ڈیجیٹل )متحدہ طلباء محاذ کی سجاد شہید پریس کلب باغ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلباء کو درپیش مسائل پر تفصیلی اظہار خیال کیا گیا ۔
متحدہ طلباء محاذ نے مسائل حل کیلئے حکومت آزاد کشمیر اور متعلقہ حکام کو 15 دن کی ڈیڈ لائن دیدی۔اگر ہمارے جائز مطالبات حل نہ کئے گئے تو ریاست بھر کے طلباء احتجاج پر مجبور ہونگے
پی ایس کا نظام فعال کیا جائے۔طلباء یونین بحال کی جائیں۔تمام اداروں میں سٹوڈنٹس۔ ڈیسک کا قیام عمل میں لایا جائے۔طلباء کیلئے سم کارڈ جاری کئے جائیں تاکہ تعلیم کا حصول آسان ہوسکے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:نیلم ویلی :میمونہ شہید سلائی سنٹرکی 35طالبات میں سلائی مشینیں تقسیم
باغ انتظامیہ ندی نالوں کی صفائی کیلئے اقدامات کرے ۔ آزاد کشمیر کا جھنڈا ہر صوبہ ادارے اور اسمبلی میں پاکستانی پرچم کیساتھ لگایا جائے ۔
آزاد کشمیر اسمبلی اور ہیومن رائٹس کمیشن میں نمائندگی دی جائے ۔ طلباء کو سفری سہولیات کیلئے بس سروس کے انتظامات کئے جائیں ۔ ثابت قافتی بحالی،آزاد کشمیر میں ایچ ای سی کو با اختیار بنایا جائے ۔
،سردار طیب چغتائی ،محسن اقبال ،حمزہ خورشید،محمد احتشام کے سی سی کالج باغ کے نمائندگان کی سجاد شہید پریس کلب باغ میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
متحدہ طلباء محاذ کا کہنا تھا کہ مطالبات کے حق میں میں 7 ماہ قبل بھی پریس کانفرنس کی تھی مگر حکومت و انتظامیہ نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ عوامی مسائل اجاگر کرنے والوں کو معاشرہ میں فضول و بیکار سمجھا گیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ذیشان حیدر کی عوامی رابطہ مہم عروج پر موٹر سائیکل پر بازار پہنچ گئے
گراس روٹ لیول سے 35 36 سالوں سے پابندی کا آج یہ نتیجہ ہے کہ طلباء کو اپنی ذمہ داریوں کا پتہ ہی نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیر سٹیٹ آئل کا قیام عمل میں لایا جائے ۔
طلباء حکومت آزاد کشمیر کو با اختیار بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔۔مقررین نے کہا کہ باہر سے آ کر یہاں فحاشی و عریانی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔راولاکؤٹ واقعہ کی پر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔۔
تعلیمی اداروں کے اندر مخلوط تعلیم سے پہلے اپنی روایات اور کلچر کے فروغ دیا جائے۔انتظامیہ ہوش کے ناخن لے ,اپنی سپر میسی شو کرنے کی کوشش سے آگے بڑھ کر اپنے فرائض ادا کریں۔
الیکشن کمیشن دکھلاوے کے نوٹیفیکیشن کرنے کی بجائےالیکشن کمیشن کے اندر عمر کا تعین کریں۔ہم باتوں سے مطمئن کرنے والوں کو کیوں منتخب کریں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ووٹر لسٹوں میں قادیانیوں کی شمولیت کی افواہیں،الیکشن کمیشن کی وضاحت جاری
اگر مطالبات نہ پورے ہوئے تو ریاست گیر ہڑتال کرینگے۔ مقررین نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں لٹریسی ریٹ کے باوجود پوٹینشل کی کمی وجہ سے اپنا آپ اجاگر نہیں کر سکتے ۔
کاپی پیسٹ سسٹم ہے ,کوئی تخلیقی سرگرمی نہیں۔ایچ ای سی کے پاس اربوں روپے کا بجٹ ہے مگر کوئی تخلیقی سرگرمی نہیں۔ کوئی ویثرن نہیںہماری مادری زبان کو بچانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی جس وجہ سے طلباء اپنے کلچر سے ہم آہنگ نہیں۔
تعلیم،تربیت،کلچر اور روایات کو فروغ دیا جائے،سپورٹس فنڈز اور کلچر فروغ فنڈز طلباء سے وصول کئے جاتے ہیں جبکہ کہ واپسی زیرو ہے۔نہ وظائف کا نظام ہے نہ کوئی کلچر سرگرمی۔طلباء معاشرہ کی کریم ہوتے ہیں۔
اگر ہمارے مطالبات پورے نہ ہوئے تو ریاست کے اندر سراپا احتجاج ہونگے کیونکہ مہنگے ترین موبائل پیکجزاور سروس نہیں,جس سے طلباء کو پڑھائی میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔




