محکمہ برقیات: 94آڈٹ اعتراضات، 16 ارب سے زائد بقایاجات کی فوری ریکوری کا حکم

مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل)پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں محکمہ برقیات کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھ گئے، جہاں انکشاف ہوا کہ بجلی صارفین کے ذمہ 16 ارب 35 کروڑ سے زائد کے واجبات جبکہ 94 آڈٹ اعتراضات زیر التواء ہیں۔

بعض علاقوں میں لائن لاسز 74 فیصد تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ محکمہ 22 ارب روپے کی بجلی خرید کر صرف 12 ارب کی بلنگ کر رہا ہے باقی 10 ارب کا خسارہ لائن لاسز میں ڈال دیا جاتا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی بڑی کامیابی، ایران اور امریکہ جنگ بندی معاہدے کے قریب پہنچ گئے

اجلاس چیئرمین عبدالماجد خان کی زیر صدارت ہوا، جس میں اراکین کرنل (ر) وقار نور، چوہدری اظہر صادق اور عاصم شریف بٹ شریک تھے۔ محکمہ نے بقایاجات اور بجلی چوری کی ذمہ داری صارفین پر ڈال دی، جس پر کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔

اجلاس میں مزید انکشاف ہوا کہ آزادکشمیر میں 160 کرش پلانٹس کو خراب یا زیرو میٹرز کی بنیاد پر فکس بل جاری کیے جا رہے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ہائیکورٹ آزادکشمیر : صدارتی الیکشن،آئینی ترامیم بارے پٹیشنز سماعت کیلئے مقرر

کمیٹی نے تمام ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سیکرٹری برقیات اور ڈی جی آڈٹ پر مشتمل خصوصی کمیٹی قائم کر دی، جو دو ماہ میں رپورٹ پیش کرے گی۔

سیکرٹری برقیات چوہدری محمد طیب نے بتایا کہ بجلی کا نظام 50 سال پرانا اور بوسیدہ ہے، جس کی بہتری کے لیے 10 ارب روپے درکار ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ٹیوٹا آزاد کشمیر میں بھرتیوں کے دوران سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف؛ تقرریاں عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان

کمیٹی نے نیپرا طرز پر ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اراکین نے محکمہ کی ناقص کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لائن لاسز میں کمی، بلنگ نظام کی بہتری اور بقایاجات کی وصولی کے لیے فوری عملی اقدامات کئے جائیں۔

Scroll to Top