جماعت اسلامی کا آزادکشمیر کے نوجوانوں کیلئے 4ارب کا بنو قابل پروگرام شروع کرنے کا اعلان

مظفرآباد : جماعت اسلامی آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کے امیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان نے ریاست کے نوجوانوں کے لیے 4 ارب روپے کی لاگت سے “بنو قابل” پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مظفرآباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد مشتاق خان نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت ایک لاکھ نوجوانوں کو آئی ٹی کی مفت مہارتیں سکھائی جائیں گی تاکہ وہ باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر مشتاق کا فاروق حیدر پر کرپشن کا الزام،مقابلے کا چیلنج بھی دیدیا

پروگرام کا باقاعدہ آغاز 19 مئی کو مظفرآباد سے ہوگا، جس میں جماعت اسلامی پاکستان کے امیر انجینئر حافظ نعیم الرحمان بطور مہمانِ خصوصی شرکت کریں گے۔

مظفرآباد کے بعد یہ پروگرام پونچھ، میرپور اور دیگر ضلعی ہیڈ کوارٹرز تک پھیلایا جائے گاجبکہ گلگت بلتستان کے 50 ہزار نوجوانوں کو بھی اس میں شامل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ آبادی کا نصف ہونے کے ناطے خواتین کو بھی اس پروگرام کا حصہ بنایا گیا ہے اور ان کے لیے الگ کلاسز کا اہتمام ہوگا۔ آئی ٹی تعلیم کے لیے انٹرنیٹ کمپنیوں اور ایس سی او (SCO) سے رابطے کیے گئے ہیں تاکہ نیٹ سروس کو بہتر بنایا جا سکے۔

ڈاکٹر مشتاق نے بتایا کہ آزاد کشمیر میں بے روزگاری کی شرح 24 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو کہ پاکستان کی مجموعی شرح (6 فیصد) سے کہیں زیادہ ہے۔

اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو سیاسی سفارش اور وزراء کے دفاتر کے چکروں سے نجات دلا کر اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے تاکہ پی ایچ ڈی ہولڈرز کو رکشہ نہ چلانا پڑے۔

یہ بھی پڑھیں: آئندہ انتخابات ، آزاد کشمیر میں حقیقی تبدیلی کے لیے عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دیں، ڈاکٹر مشتاق

آئی ٹی مہارتوں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو تحریک آزادی کشمیر، پاکستان اور پاکستانیت کے نظریات سے ہم آہنگ کیا جائے گا تاکہ انہیں دشمن کی سازشوں سے بچایا جا سکے۔

ڈاکٹر مشتاق خان نے ریاست کے تمام نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ بلا تخصیص اس پروگرام میں رجسٹریشن کرائیں کیونکہ یہ ان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہم اٹھائیں گے۔

Scroll to Top