مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل)جماعت اسلامی آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کے امیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان نے کہا ہے کہ پونچھ کے بہادر اور غیور عوام کو 77 برس سے مسلط فرسودہ اور ظالمانہ نظام کے خاتمے کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دینا ہوگا ۔
ان کا کہنا تھا کہ روایتی سیاسی جماعتوں نے اقتدار کو ذاتی مفادات اور عیاشیوں کا ذریعہ بنا لیا ہے جبکہ عام آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے بھی پریشان ہے ۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی حلقہ شہر کے زیر اہتمام بدلو نظام ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
ڈاکٹر محمد مشتاق خان نے کہا کہ باریاں لینے والی سیاسی جماعتیں عوامی مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں اور ان کی تمام توجہ اپنے خاندانوں اور قریبی افراد کو سرکاری نوکریاں دلوانے اور ذاتی مفادات کے حصول تک محدود ہے ۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو “سکیم خوروں” اور “سکیم چوروں” سے نجات حاصل کرنا ہوگی ، کیونکہ یہی عناصر مسلسل نظام کو کرپشن اور ناانصافی کی طرف دھکیل رہے ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ڈاکٹر مشتاق کا فاروق حیدر پر کرپشن کا الزام،مقابلے کا چیلنج بھی دیدیا
ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ عوام جماعت اسلامی کے دیانتدار اور امانتدار اُمیدواروں کو ووٹ دیں تاکہ ایک حقیقی تبدیلی ممکن ہو سکے ۔
ڈاکٹر محمد مشتاق خان نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی نے آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور مہاجرین کے تمام حلقوں سے اپنے اُمیدوار میدان میں اتار دیے ہیں اور جماعت “حق دو عوام کو، بدل دو نظام” کے واضح بیانیے کے ساتھ الیکشن میں حصہ لے رہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا مقصد صرف اقتدار کا حصول نہیں بلکہ ایک منصفانہ، دیانتدار اور شفاف نظام کا قیام ہے ۔ انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ آئندہ انتخابات میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں، کیونکہ یہ محض سیاسی انتخاب نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کا فیصلہ ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام نے درست قیادت کا انتخاب نہ کیا تو مسائل مزید بڑھیں گے، جبکہ دیانتدار قیادت ہی ملک و خطے کو ترقی کی راہ پر ڈال سکتی ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سردار قیوم کے کہنے پر فاروق حیدر کی حمایت کی تھی،اب ان کے پاس کوئی بیانیہ ہی نہیں، ڈاکٹر مشتاق
آخر میں انہوں نے کہا کہ عوام کے پاس پانچ سال بعد ایک اہم موقع آتا ہے اور اس بار انہیں اپنے اور اپنی آئندہ نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے درست فیصلہ کرنا ہوگا تاکہ حقیقی تبدیلی ممکن ہو سکے ۔




