ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے باعث عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے ۔
اوپن مارکیٹ میں سرکاری نرخ پر آٹے کی دستیابی کم ہونے لگی ہے جبکہ مختلف وزن کے تھیلوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے ۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 10 کلو آٹے کا تھیلا اب 1050 روپے میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ 20 کلو آٹے کی قیمت بڑھ کر 2100 روپے تک پہنچ گئی ہے ۔
اس سے قبل 10 کلو آٹے کا سرکاری نرخ 910 روپے اور 20 کلو تھیلے کی قیمت 1810 روپے مقرر تھی، تاہم موجودہ صورتحال میں کئی علاقوں میں سرکاری نرخوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے ۔
فلور ملز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے سرکاری گندم کی سپلائی میں رکاوٹ کے باعث مارکیٹ میں آٹے کی قلت پیدا ہوئی ہے، جس نے قیمتوں میں اضافے کو جنم دیا ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:چکن فی کلو 550روپے اور انڈے 255 روپے درجن تک پہنچ گئے
ان کے مطابق جب تک گندم کی باقاعدہ فراہمی بحال نہیں ہوتی ، آٹے کی قیمتوں میں استحکام لانا مشکل ہوگا ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طلب اور رسد کے درمیان بڑھتا ہوا فرق بھی اس مہنگائی کی ایک بڑی وجہ ہے، جس نے مارکیٹ کو غیر مستحکم کر دیا ہے ۔
دوسری جانب شہریوں نے آٹے کی قیمتوں میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے ۔
ان کا کہنا ہے کہ پہلے ہی بڑھتی مہنگائی نے گھریلو بجٹ کو متاثر کر رکھا ہے اور اب آٹے جیسی بنیادی ضرورت کی قیمت میں اضافہ غریب اور متوسط طبقے کیلئے مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے ۔
کئی شہریوں کے مطابق کم آمدنی والے افراد کیلئے دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے کی قیمتوں کو فوری طور پر کنٹرول کیا جائے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مہنگائی کا طوفان،گھی ،چینی، کوکنگ آئل کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگیں
سرکاری نرخوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور مارکیٹ میں سپلائی کا نظام بہتر بنایا جائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور بنیادی خوراک کی دستیابی ہر طبقےکیلئے ممکن ہو سکے ۔



