امریکا نے مشرقِ وسطیٰ کے اتحادی ممالک کو 8.6 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے فوجی ساز و سامان کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یو ایس اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات کو جدید دفاعی ساز و سامان فراہم کیا جائے گا جس کی مجموعی مالیت 8.6 ارب ڈالر سے زائد ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران پر منحصر ہے ہمیشہ کیلئے ختم ہونا چاہتا ہے یا ڈیل؟ڈونلڈ ٹرمپ کی پھر دھمکی
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کو نو ہفتے مکمل ہو چکے ہیں جبکہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کو نافذ ہوئے تین ہفتوں سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے جسے ماہرین اب بھی نازک قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ٹیلیفون پر مذاکرات کر رہے ہیں تاہم انہوں نے تہران کی جانب سے پیش کی گئی نئی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی معاہدہ طے پا سکے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں اسلحے کی بڑھتی ہوئی فراہمی کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے جبکہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے حل کے امکانات بھی غیر یقینی کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز میں ایران کو فیس ادا کرنیوالوں کیلئے امریکا نے انتباہ جاری کردیا
یاد رہے کہ امریکا ایران جنگ میں امریکی اتحادیوں کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات، کویت، قطر کو بھی نشانہ بنایا گیا اور امریکی اڈوں کیخلاف کمپنیوں پر میزائل داغے گئے ہیں۔




