اسرائیل

اسرائیل کی بین الاقوامی سمندری حدود میں کارروائی غیر قانونی ہے ، اطالوی وزیراعظم

اٹلی نے غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے بحری قافلے کو روکنے پر اسرائیل کی شدید مذمت کی ہے اور حراست میں لیے گئے اپنے شہریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے ۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق  اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کے دفتر سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی سے گریز کرے اور زیرِ حراست تمام افراد کی سلامتی کو یقینی بنائے ۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی بحریہ نے یونان کے قریب بین الاقوامی سمندری حدود میں امدادی قافلے کو روکا، جس کا مقصد محصور فلسطینیوں تک انسانی امداد پہنچانا تھا ۔ اس قافلے کے منتظمین نے اسرائیلی اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے “بحری قزاقی” سے تعبیر کیا ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:نوبیل انعام کا اصل حقدار پاکستان ،اٹلی کے سابق وزیراعظم نے مطالبہ کردیا

قافلے میں مختلف ممالک کے شہری شامل تھے، جن میں اطالوی باشندے بھی موجود تھے ۔ اطالوی حکومت نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غزہ کے عوام کو امداد فراہم کرنے کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے ۔  ساتھ ہی اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بین الاقوامی تعاون کے اصولوں کا احترام کرے اور امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ نہ ڈالے ۔

اگرچہ اٹلی کو یورپ میں اسرائیل کے قریبی اتحادیوں میں شمار کیا جاتا ہے، لیکن حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں کچھ تناؤ دیکھنے میں آیا ہے ۔ خاص طور پر لبنان میں شہری علاقوں پر حملوں کے بعد اٹلی نے اسرائیل پر کھل کر تنقید کی ہے۔ مزید برآں، اٹلی نے حال ہی میں اسرائیل کیساتھ دفاعی تعاون کا ایک معاہدہ بھی معطل کر دیا ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستانی ہنر مندوں کے لیے بڑی خوشخبری، اٹلی کا ساڑھے 10 ہزار ویزے دینے کا باضابطہ اعلان

یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب اس نوعیت کے امدادی قافلے کو روکا گیا ہو۔ گزشتہ سال بھی اسی تنظیم کی جانب سے غزہ جانے والے قافلے کو روکا گیا تھا، جس میں متعدد بین الاقوامی کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا تھا ۔

Scroll to Top