امریکا نے ایران پر شدید اور تیز حملوں کی نئی لہر کا منصوبہ بنالیا

امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہےکہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران پر شدید اور تیز حملوں کی نئی لہر کا منصوبہ بنایا ہے، حملوں کا مقصد مذاکرات میں تعطل ختم کرنا یا جنگ کے مکمل خاتمے سے پہلے ایران کو آخری فیصلہ کن ضرب لگانا ہوسکتا ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق حملوں میں ایران کے انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے ، ایک اور منصوبہ آبنائے ہرمز کے ایک حصے پر قبضہ کرنے کا بھی ہے تاکہ اسے بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھولا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کو کتنے ارب ڈالر سے ’ہاتھ دھونے‘ پڑیں گے؟ سی این این کے ہوشربا انکشافات

امریکی فوجی حکام آج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بریفنگ دیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا نیا نقشہ بھی شیئر کردیا ، نقشے میں آبنائے ہرمز کو آبنائے ٹرمپ کا نام دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں جنگ بندی کے خاتمے اور ایران پر دوبارہ حملوں کا اشارہ دیا تھا۔

جنگ بندی کے خاتمے سے متعلق سوال پر جواب دیا کہ مجھے نہیں لگتا کہ اس کی ضرورت ہے لیکن شاید پڑ بھی سکتی ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ایران کے خلاف فوجی آپریشن بہت پہلے شروع کر دینا چاہیے تھا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی 90 فیصد میزائل کی فیکٹریاں تباہ کر دیں، ایران پر لگائی گئی پابندیں کامیاب ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکہ کشیدگی کے باوجود ماہرین نے تیل سستا ہونے کی خوشخبری سنا دی

ایران کی معیشت تباہ ہوتی جارہی ہے، ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا اور ایران معاہدہ کرنے کیلئے بیتاب ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بولے ایرانی قیادت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ کسی کو معلوم نہیں کہ وہاں اصل لیڈر کون ہے۔

Scroll to Top