ایران امریکہ کشیدگی کے باوجود ماہرین نے تیل سستا ہونے کی خوشخبری سنا دی

اسلام آباد: عالمی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی نے نہ صرف سیاسی صورتحال کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی معیشت کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس تنازع کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے عالمی منڈی میں بے یقینی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ آئل کی قیمت، جو تنازع سے قبل تقریباً 70 ڈالر فی بیرل تھی، اب بڑھ کر 100 ڈالر سے زائد سطح تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث دنیا بھر کی معیشتوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال مستقل نہیں ہے اور آنے والے مہینوں میں تیل کی قیمتوں میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے ایک ممکنہ فیصلے نے عالمی توانائی مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے۔ یو اے ای کی جانب سے اوپیک سے علیحدگی کے عندیے کو ماہرین ایک بڑا موڑ قرار دے رہے ہیں۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق اگر یہ فیصلہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اوپیک کی مجموعی پیداواری صلاحیت میں تقریباً 13 فیصد کمی ہو سکتی ہے، جس سے عالمی مارکیٹ پر اس کا کنٹرول کمزور پڑ جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں خام تیل مزید مہنگا،ماہرین معاشیات نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

ماہرین کے مطابق اسی صورتحال کے نتیجے میں ایک طرف سپلائی بڑھنے کا امکان ہے اور دوسری طرف مارکیٹ کے توازن میں تبدیلی آ سکتی ہے، جس کے باعث خام تیل کی قیمتیں 50 ڈالر فی بیرل تک گرنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین نے تیل کی ممکنہ کمی کی تین بڑی وجوہات بیان کی ہیں، جن میں یو اے ای کی مکمل پیداواری صلاحیت کا استعمال، امریکہ کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک بننا، اور دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں و متبادل توانائی کی طرف بڑھتا ہوا رجحان شامل ہے، جس سے تیل کی طلب میں کمی آ رہی ہے۔

معاشی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوتی ہے تو اس کا براہِ راست فائدہ پاکستان جیسے درآمدی ممالک کو پہنچ سکتا ہے، جہاں 80 فیصد سے زائد تیل درآمد کیا جاتا ہے۔ قیمتوں میں کمی سے درآمدی بل میں اربوں ڈالر کی بچت، مہنگائی میں کمی، ٹرانسپورٹ و بجلی کے اخراجات میں کمی اور صنعتی شعبے کو ریلیف ملنے کی توقع ہے۔ عالمی منڈی میں اب سب کی نظریں اسی سوال پر مرکوز ہیں کہ کیا خام تیل واقعی نئی بڑی گراوٹ کی طرف جا رہا ہے یا یہ صرف وقتی اتار چڑھاؤ ہے۔

مزید پڑھیں: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ،ماہرین نے انتباہ جاری کردیا

Scroll to Top