آزاد کشمیر ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ، پنجاب کی طرز پر سول پراسیکیوشن سسٹم نافذ کرنے کا حکم

مظفرآباد: ہائی کورٹ آزاد جموں و کشمیر نے نظامِ انصاف میں اصلاحات کی جانب ایک اہم اور تاریخی پیش رفت کرتے ہوئے ریاست میں پنجاب کی طرز پر سول پراسیکیوشن سسٹم نافذ کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ راجہ ضیغم افتخار ایڈووکیٹ کی جانب سے حکومت آزاد جموں و کشمیر (اسمبلی) کے خلاف دائر کردہ رِٹ پٹیشن پر سماعت کے بعد سنایا۔

عدالتِ عالیہ نے درخواست گزار کا موقف تسلیم کرتے ہوئے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ آزاد کشمیر میں ایک مؤثر اور فعال سول پراسیکیوشن سسٹم قائم کیا جائے۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد انصاف کے نظام کو مزید مستحکم، شفاف اور پیشہ ورانہ بنانا ہے تاکہ قانونی چارہ جوئی کے عمل میں بہتری لائی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: توہین عدالت کیس، ہائیکورٹ کا صحت حکام کو عملدرآمد آرڈر پیش کرنے کا حکم

کامیاب قانونی جدوجہد کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ ضیغم افتخار ایڈووکیٹ نے اسے ایک بڑی قانونی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں آزاد کشمیر میں سول پراسیکیوشن کا باقاعدہ ڈھانچہ قائم ہونے کی راہ ہموار ہوگی، جس سے نہ صرف عدالتی نظام میں بہتری آئے گی بلکہ انصاف کی فراہمی بھی مزید مؤثر ہو جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس نئے سسٹم کے قیام سے بڑی تعداد میں نوجوان وکلاء کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور وہ عدالتی نظام میں اپنی پیشہ ورانہ خدمات بہتر انداز میں انجام دے سکیں گے۔ راجہ ضیغم افتخار کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ وکلاء برادری کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کے لیے بھی ایک مثبت اور تاریخی سنگ میل ثابت ہوگا۔