انٹرپول کی بڑی کارروائی:ملک ریاض اور بیٹے علی ریاض کے ریڈ وارنٹ جاری

انٹرپول نے مبینہ طور پر قومی احتساب بیورو (نیب) کی درخواست پر پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض کے ریڈ وارنٹ جاری کردیئے

ہائی پروفائل کرپشن اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت،نیب حکام کے مطابق 900 ارب روپے سے زائد کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات مکمل کر لی ۔

حکام کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اہم ریکوری ہوئی ہے، جبکہ ملک بھر میں درجنوں ہائی پروفائل کیسز، انکوائریاں اور ریفرنسز زیر عمل ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:انگور اڈہ: افغان طالبان کی گولہ باری، 4 بچوں ،خاتون سمیت5 افراد زخمی،پاک فوج کا منہ توڑ جواب

چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد بٹ نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ نیب کے کہنے پر انٹرپول نے ملک ریاض اور علی ریاض کے ریڈ وارنٹ جاری کردیئے۔

اس موقع پر ڈی جی آپریشنز نیب امجد مجید اولکھ کا کہنا تھا کہ ملک ریاض کےخلاف 900 ارب روپے سے زیادہ کی تحقیقات مکمل ہو چکی،گزشتہ سال نیب نے 89 ارب روپے کی ریکوری کی،اس وقت منی لانڈرنگ کے 37 ہائی پروفائل کیسز پر کارروائی جاری ہے۔

منی لانڈرنگ کے4کیسز عدالتوں سے ختم ہو چکے ہیں،اس وقت 289 ریفرنسز، 205 انوسٹی گیشنز، 745 انکوائریز ہیں ،رواں سال جنوری سے مارچ کے درمیان 8 ہزار 563 مجموعی شکایات آئیں،8ہزار 214 شکایات کو نمٹا دیا گیا ہے۔475شکایات پر تاحال کارروائی جاری ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:معرکہ حق : بھارتی طیارے گرائے جانے کے بعد چینی طیاروں کی مانگ بڑھ گئی

بحریہ ٹاؤن سمیت مختلف ہاؤسنگ پراجیکٹس سے متعلق انوسٹی گیشن چل رہی ہیں،سندھ میں ملیر ،کورنگی، کلفٹن اور گل احمد ملز سے اراضی واگزار کرائی گئی،پنجاب میں بھی 9 لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی کو واگزار کرایا گیا،واگزار کرائی گئی اراضی کی دیکھ بھال کےلئے صوبائی سطح پر ٹاسک فورس بنائی ہے۔

چیئرمین نیب کا مزید کہنا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کراچی کے کیس میں کئی سیاستدانوں سے تحقیقات کی گئی ہیں،مختلف پارلیمنٹرینز کےخلاف بھی کیسز چل رہے ہیں،پارلیمنٹرینز کے کئی مقدمات ایف آئی اے اور دیگر محکموں کو منتقل کر دیئے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر: 3 مئی تک طوفانی بارشیں، ایس ڈی ایم اے کی وارننگ جاری

حکام نے مزید بتایا کہ غیر قانونی زمینوں پر قبضے اور تجاوزات کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے ایک حصے کے طور پر بڑے شہری علاقوں سمیت مختلف علاقوں میں زمین کی بازیابی کی متعدد کارروائیاں کی گئی ہیں۔

صوبائی سطح پر بازیاب شدہ جائیدادوں کی نگرانی کے لیے ایک ٹاسک فورس بھی قائم کی گئی ہے۔72 سالہ ملک ریاض بحریہ ٹاؤن کے بانی اور چیئرمین ہیں، جب کہ ان کے بیٹے علی ریاض کمپنی کے سی ای او کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ دونوں کو حالیہ برسوں میں زمین اور مالی معاملات سے متعلق مختلف مقدمات میں قانونی جانچ پڑتال کا سامنا ہے۔

Scroll to Top