پشاور (کشمیر ڈیجیٹل) وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کیتعلیمی ادارے آئی ایم سائنسز کی تقریب کے دوران خاتون صحافی کے ساتھ بدتمیزی کا واقعہ سامنے آگیا۔
دوران تقریب خاتون صحافی کو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے سوال کرنا مہنگا پڑ گیا ۔خاتون صحافی کو کوریج سے روک دیا گیا جس کے بعد صحافی برادری میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:الیکشن کمیشن کا اہم فیصلہ: شاہ غلام قادر کی درخواست پر حکومت سے 3دن میں جواب طلب
میڈیا کو باقاعدہ تقریب کی کوریج کیلئے مدعو کیا گیا تھا تاہم خاتون رپورٹر رانی عندلیب نےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں وزیراعلیٰ کے سکیورٹی سٹاف نے رپورٹنگ سے روک دیا۔
رپورٹررانی عندلیب کے مطابق انہیں نہ صرف ہال کے اندر کوریج سے روکا گیا بلکہ بعد ازاں ہال سے باہر بھی ریکارڈنگ کرنے سے منع کیا گیا۔
ان کامزید کہنا تھا کہ جب انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے خیبر پختونخوا کی یونیورسٹیوں کی صورتحال پر سوال کیا تو اس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے ان کی کوریج محدود کر دی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ، 2 افسران کو ترقی مل گئی
خاتون صحافی کا مزید کہنا تھا کہ اگر حکومت واقعی جمہوری اقدار اور نوجوانوںکیلئے آزادی کے دعوے کرتی ہے تو پھر اس طرح کے اقدامات سوالات کھڑے کرتے ہیں کہ یہ کیسی آزادی ہے؟
واقعے کے بعد صحافتی حلقوں میں بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی سرکاری مؤقف سامنے نہیں آیا۔




