الیکشن کمیشن کا اہم فیصلہ: شاہ غلام قادر کی درخواست پر حکومت سے 3دن میں جواب طلب

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر کی قائد حزب اختلاف شاہ غلام قادر کی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے حکومت سے تین روز میں جواب طلب کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے قائد حزب اختلاف شاہ غلام قادر کی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے حکومت سے تین روز میں جواب طلب کر لیا۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ انتخابی شیڈول کے اعلان سے چند دن پہلے تبادلوں، تقرریوں اور ترقیاتی پیکجز کے اعلانات جاری ہیں جو الیکشن ایکٹ 2020 اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور پری پول ریگنگ کے مترادف ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وزیر حکومت سردار ضیاء القمر کا 11 مئی میں یوم پاکستان ریلی نکالنے کا اعلان

الیکشن کمیشن نے چیف سیکرٹری اور پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعظم کو ہدایت کی ہے کہ وہ الزامات پر حکومت کا مؤقف حاصل کر کے مقررہ مدت میں رپورٹ پیش کریں۔

ترجمان کے مطابق شفاف اور غیر جانبدار انتخابات ہر صورت یقینی بنائے جائیں گے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے قائد حزب اختلاف شاہ غلام قادر کی جانب سے ایک درخواست دائر کی گئی جس میں الیکشن ایکٹ 2020 کے تحت انتخابی فہرستہا کے شیڈول کے اجراء کے بعد حکومت آزاد کشمیر کی جانب سے تبادلوں و تقرریوں کا سلسلہ جاری ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ، 2 افسران کو ترقی مل گئی

الیکشن کمیشن میں یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ آئندہ انتخابات بہت قریب ہیں اس کے باوجود مختلف ترقیاتی و دیگر پیکیج کا اعلان انتخابی عمل پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔

الیکشن کمیشن نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کو ہدایت کی کہ مذکورہ درخواست پر حکومت کا موقف 3 یوم کے اندر الیکشن کمیشن کو ارسال کریں۔

الیکشن کمیشن نے اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کو قانون کے مطابق نمٹایا جائے گا۔

Scroll to Top