آئین کے مطابق مہاجرین کے تمام حقوق بحال ہیں ،وزیراعظم راجہ فیصل راٹھور

وزیراعظم،قائد ایوان راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے اسمبلی اجلاس کے دوران چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی عبدالماجد خان کے نقطہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کے مطابق مہاجرین کے تمام حقوق بحال ہیں، اور یہ ریاست کے مساوی شہری ہیں۔

عدالت العالیہ نے بلدیاتی نمائندگان کے حوالے سے جو فیصلہ دیا ہے وہ صرف فنڈز کی تقسیم کے حوالے سے ہے، مہاجرین نشستوں کو آئین اور قانون کے مطابق دیکھنے کی ضرورت ہے اور جب تک یہ اسمبلی انہیں ختم نہیں کرتی یہ موجود ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پراسرار کھائی: زمین کے نیچے چھپی قدیم اورخفیہ دنیا‘ آ باد ہونے کا انکشاف

ایک مشترکہ مفاہمتی معاہدہ کے تحت کابینہ کی تعداد اور فنڈز کا معاملہ زیر التواء کیا گیا تھا، جس میں حکومت پاکستان اور آزادکشمیر حکومت کے نمائندگان کے دستخط شامل ہیں۔

وزیراعظم فیصل راٹھو کا کہنا تھا کہ 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ میں ایک نقطہ پر ڈیڈ لاک تھا جس پر مفاہمت کیلئے ہم آہنگی پیدا کی گئی تھی، مہاجرین ہمارا جزو لاینفک ہیں۔۔

ان ہی کی ووٹوں کی وجہ سے ریاست کا وزیراعظم ہوں، وزارتوں سے محروم رکھنے کی بات درست نہیں، یہ صرف ایک مفاہمتی ہم آہنگی کا معاملہ ہے۔۔

فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا تھا کہ کوآرڈی نیٹرز اور اعزازی شناخت کوئی امر مانع نہیں، یہی لوگ میدان میں مخالفین کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:یواے ای کا تیل پیدا کرنیوالے ممالک کی تنظیم اوپیک چھوڑنے کا اعلان

عبدالماجد خان نے اپنے نقطہ اعتراض میں سوال اٹھایا تھا کہ عدالت العالیہ کے فیصلہ اور سپریم کورٹ سے اپیل مسترد ہونے کے بعد آئین کے آرٹیکل 22کی تعریف واضح ہو چکی ہے۔

اس کیس میں 53ممبران اسمبلی کو فریق بنایا گیا تھا، عدالتی فیصلہ کے بعد بتایا جائے کہ مہاجرین ممبران کا اسٹیٹس کیا ہے۔

سپیکر چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ پوائنٹ آف آرڈر پر تقریر نہیں ہو سکتی، آپ قرارداد لائیں، عبدالماجد خان نے کہا کہ جب آرٹیکل 22 کی تعریف کر دی گئی ہے تو مہاجرین کی 12سیٹوں کا آئینی و قانونی سٹیٹس بتانے میں کیا رکاوٹ ہے۔

بتایا جائے کہ کیوں فنڈز روکے گئے، اس معاہدہ کی کیا قانونی و آئینی حیثیت ہے، جسے ہم آہنگی قرار دیا گیا ہے، عبدالماجد خان کا مزید کہنا تھا کہ 1961 کے عوام کو ووٹ کا حق ملا۔۔

1200 بلدیاتی نمائندگان آزادکشمیر اور 1200 مہاجرین مقیم پاکستان سے منتخب ہوئے، جن کے ذریعے صدر کا انتخاب کیا گیا۔۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ایران نے آبنائے ہرمز فوری کھولنے کا مطالبہ کردیا،امریکی صدر ٹرمپ کا دعویٰ

جس پر سپیکر چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ جب تک آئین میں مہاجرین کی نشستیں موجود ہیں، انہیں کوئی ختم نہیں کر سکتا، عبدالماجد خان نے کہا کہ میں اگر آئین کے خلاف بات کروں تو میرا مائیک بند کر دیا جائے۔۔

اسمبلی ہمارے حقوق کی ضامن ہے، 1967میں اتحاد ثلاثہ بنا جس کے ذریعے آزادکشمیر میں ایکٹ 1970 اور ایکٹ1974ء بنے، 31مئی 2018ء کو تیرہویں ترمیم کے ذریعے مہاجرین سمیت مخصوص نشستوں کو تحفظ دیا گیا۔۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت یقین دہائی کروائے کہ ہمارے آئینی حقوق کا تحفظ کیا جائے گا، جس پر وزیر قانون میاں عبدالوحید نے کہا کہ عدالت نے آرٹیکل 22 سے متعلق جو فیصلہ دیا ہے، اس میں کوئی تضاد موجود نہیں معاملہ اب بھی عدالت میں ہے۔۔

مہاجرین ممبران اسمبلی کے فنڈز کا اس سے کوئی تعلق نہیں، مہاجر نہ صرف اسمبلی کے ممبر کے طور پر موجود ہیں جب کہ کمیٹیوں کے چیئرمین بھی ہیں۔۔

انہوں نے کہا کہ مفروضے کی بنیاد پر نقطہ اعتراض پر لمبی تقریر کرنا مناسب نہیں جب تک کوئی حتمی معاملہ سامنے نہیں آیا، حکومت کسی معاملے کی یقین دہائی کروا سکتی ہے اور ہی کوئی واضح جواب دیا جا سکتا ہے۔۔

قائد ایوان کے جواب کے بعد مزید سوال کی گنجائش نہیں جس پر عبدالماجد خان نے بولنے کی کوشش کی جس پر سپیکر نے انہیں بولنے کی اجازت نہیں دی۔

عبدالماجد خان سپیکر کے رویے کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ کر گئے، ممبر اسمبلی عاصم شریف بٹ نے بھی ان کا ساتھ دیا وزیر حکومت قاسم مجید نے انہیں منانے کیلئے باہر گئے اور منوا کر دوبارہ ایوان میں لے آئے ۔۔