سپیکر گلگت بلتستان نذیر احمد ایڈووکیٹ کا پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان

گلگت(کشمیر ڈیجیٹل)پاکستان پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان سے پاکستان تحریک انصاف کی بڑی وکٹ اڑا دی۔ سپیکر نذیر احمد ایڈووکیٹ نے پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا۔

ذرائع کے مطابق اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی نذیر احمد ایڈووکیٹ پی ٹی آئی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے کر پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے

مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہبازشریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کی اہم ملاقاتیں

مرکزی رہنما پیپلزپارٹی سید نیئر حسین بخاری، قمر زمان کائرہ اور صوبائی صدر امجد ایڈووکیٹ نے سپیکر نذیر احمد ایڈووکیٹ کو پارٹی مفلر پہناکر خوش آمدید کہا ۔

واضح رہے کہ نذیر احمد ایڈووکیٹ جون 2023 سے گلگت بلتستان اسمبلی کے اسپیکر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال اگست میں پی ٹی آئی رہنما ساجد قریشی نے اپنے درجنوں ساتھیوں کے ہمراہ پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔

مرکزی جنرل سیکرٹری نیئر حسین بخاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ نذیر ایڈووکیٹ کی شمولیت دراصل واپسی ہے۔

انہوں نے کہا:نذیر ایڈووکیٹ کسی نئی جماعت میں شامل نہیں ہو رہے بلکہ اپنے سیاسی گھر میں واپس آ رہے ہیں۔ ان کی واپسی سے پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں مزید مضبوط، متحرک اور عوامی قوت بن کر ابھرے گی۔

اس موقع پر سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی نذیر حمد ایڈووکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی اور گلگت بلتستان کا رشتہ محض سیاسی نہیں بلکہ تاریخی اور نظریاتی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سکائی لنک پبلک ہائی سکول پیر بالا ڈرگ تقسیم کرنے لگا،سردار جہانداد ایڈووکیٹ کا الزام

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں جتنی بھی بڑی آئینی و سیاسی اصلاحات آئیں، ان میں پیپلز پارٹی کا کلیدی کردار رہا ہے۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم نوجوان نسل کے وژن اور امنگوں کو سامنے رکھتے ہوئے سیاست کریں۔

پیپلز پارٹی ہی وہ جماعت ہے جو عوامی حقوق، ترقی اور بااختیار نوجوانوں کے خواب کو حقیقت میں بدل سکتی ہے۔

مرکزی رہنما قمرالزمان کائرہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پیپلز پارٹی آئندہ انتخابات میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔

انہوں نے وفاقی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے سیاسی عمل میں کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی اور عوامی مینڈیٹ کا ہر صورت احترام یقینی بنایا جائے گا۔

تقریب کے اختتام پر کارکنوں نے نذیر ایڈووکیٹ کی شمولیت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے گلگت بلتستان کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

Scroll to Top